لوگ بھاگ بھاگ کر دبئی کیوں جاتے ہیں؟ جانیے۔۔۔

محمد بن راشد المکتوم اس شخص کا نام ہے جسے دبئی کا معمار بھی کہاجاتا ہے وہ شخص جس نے ریگستان کی ریت میں ایک عظیم الشان شہر تعمیر کر دیا جو آج کے دور میں دنیا کا سب سے بڑا ٹورسٹ پلیس بن چکا ہے دبئی میں بڑی بڑی کمپنیز اپنے ایونٹس کرتی ہیں اور اپنی پروڈکٹس لانچ کرتی ہیں دبئی کا شمار دنیا کے امیر ترین شہروں میں کیا جاتا ہے آج سے کچھ سال پہلے یہ دبئی ریت کے ٹیلوں سے گھرا ہوا ایک بیابان کے علاوہ کچھ نہ تھا مگر پھر ریت کے ان ٹیلوں نے ترقی کی اور دبئی کہلانے لگے جہاں دنیا کی بلند بلڈنگز تعمیر کی گئیں جن میں سر فہرست برج خلیفہ آتا ہے وہیں اس ریاست میں کہنے کو تو اسلامی قانون نافذ ہے لیکن یہ ریاست بہت ساری بے حیائیوں کا شکار ہوگئی ۔

آخر وہ بے حیائیاں کون کونسی ہیں اور پوری دنیا سے لوگ بھاگ بھاگ کر دبئی ہی کیوں جانا چاہتے ہیں۔۔دبئی کو جدید بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے اس شہر کی بنیادوں میں یہ پالیسی رکھی گئی تھی کہ اس شہر کو دنیا بھر کے لوگوں کے لئے عیاشی کا مرکز بنایا جائے گا خواہ آپ کسی بھی رنگ نسل اور مذہب سے کیوں نہ ہوں دبئی میں آپ کو عیاشی کے لئے مکمل سہولیات میسر ہیں اور خاص طور پر دبئی میں یورپین ورلڈ کو ٹارگٹ کرنے کے لئے عیاشی کا سامان میسر کیا گیا ہے کیونکہ پوری دنیا کا پیسہ اس وقت مغرب میں موجود ہے چائنہ کینیڈا اور یورپین ممالک میں دنیا کا اکثریتی پیسہ موجود ہے اس لئے وہاں سے لوگ جب سیر و تفریح کے لئے دبئی آتے ہیں

تو اگر ان کو اپنی عیاشی کاسامان میسر نہ ہو تو وہ دبئی نہیں آئیں گے بلکہ دوسری ریاستوں مین جائیں گے اس پالیسی کو شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اپنایا اور دبئی کو بہت ہی کم وقت میں آسمان کی بلندیوں پر لے گیا آج دبئی کے اندر شرعی قانون کا نفاذ ہے یعنی اسلامی قوانین کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں لیکن کیا دبئی ایک اسلامی ریاست ہونے کی حیثیت سے شرعی ہے ۔ہاں کتابوں میں تو ایسا ہی لگتاہے لیکن عملی طور پر ایسا بالکل نہیں۔ہے دبئی میں آپ کو برہنہ بیچز بھی مل جائیں گے اور ویسے بیچز جس طرح کے بیچ آپ کو یورپ میں میسر نہیں لیکن دبئی کے ساحل سمند ر وں پر مغربی دنیا کے لیئے عیاشی کا مکمل سامان موجود ہے اگر بات کی جائے شراب کی تو یہ بھی دبئی میں باآسانی دستیاب ہے

اور لوگ باآسانی خرید کر استعمال کر سکتے ہیں لیکن اس میں ایک قانون بھی ہے اور اسے نافذ کیا گیا ہے کہ اگر آپ کی عمر اکیس سال سے کم ہے تو آپ شراب کو قانونی طریقے سے نہیں خرید سکتے شراب کے حصول کے لئے آپ کی عمر اکیس سال ہونی چاہئے اور آپ کے پاس دبئی گورنمنٹ کی طرف سے دیاہوا ایک عدد اتھارٹی لائسنس ہونا بھی ضروری ہے لیکن عملی طور پر شراب کھلے عام فروخت کی جاتی ہے اور بغیر کسی روک ٹوک کے لوگ اسے خرید کر پی سکتے ہیں قوانین میں اگر کچھ بھی لکھا ہے تو وہ صرف اس لئے لکھا ہے۔

کہ دبئی کو شرعی ریاست ثابت کیا جاسکے لیکن قوانین لکھنے میں اور ان پر عمل کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے دبئی ایک ایسی اسلامی ریاست ہے جس میں سور کے گوشت والے ریسٹورینٹ بہت آسانی سے مل سکتے ہیں سور جو کہ اسلام کے مطابق انتہائی ناپسندیدہ جانور ہے اور اسے مکمل طور پر حرام قرار دیا گیا ہے یعنی اس کو کھانے سے منع فرمایا گیا ہے اس کے باوجود ایک اسلامی ریاست میں اس کی خریدو فروخت اور اس کے ریسٹورینٹ کو کھلنے دینا دبئی کی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ وہ خود کو شرعی بھی کہلواتا ہے اور ایسی غیر اسلامی چیزوں کی خرید و فروخت پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے تو اگر بات کی جائے شرعی ریاست کے حکمرانوں کی دولت اور ان کے ذاتی لائف سٹائل کی۔تو کوئی بھی خدا ترس حکمران جو اپنی ریاست کو اسلامی طرز پر چلاسکتا ہے۔

ان کی نجی زندگی بھی بالکل اسلامی شریعت کے مطابق ہوتی ہے لیکن اگر آپ دبئی کے حکمرانوں خصوصا ان کی عورتوں کی نجی زندگی دیکھیں تو وہ بالکل اسلامی شریعت کے مطابق نہیں اگر دبئی میں موجود کلبز اور پبز کی بات کی جائے تو کلبز اور پبز ایک اسلامی معاشرے اور ایسی ریاست جس میں کہا جائے کہ وہاں پر اسلامی قوانین کا نفاذ ہے وہاں پر ان کلبز کی کوئی بھی گنجائش نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ تمام مذہبی دنیا کا کلچر ہے لیکن اسلام میں ایسے فحاشی کے اڈوں کی کوئی بھی گنجائش نہیں ہے۔لیکن دبئی کے اندر یہ چیزیں بہت ہی کومن سمجھی جاتی ہیں۔اگر برائی کی بات کی جائے تو برائی ہی برائی کو جنم دیتی ہے کیونکہ برائی ایک ایسی چیز ہے جو اپنی جگہ پر ختم نہیں ہوتی بلکہ آگے بڑھتی جاتی ہے اور دبئی کو دیکھ کر اردگرد کی مسلم ریاستوں نے اس پالیسی کو اپنا نا شروع کر دیا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے ہی وہ اپنی معاشرت کو اوپر لے کر جاسکتے ہیں۔ شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں