دامادِرسولﷺفرمایا!سخت پریشانی میں یہ آیت پڑھو، خود بھی پڑھیں دوسروں کے ساتھ شیئرکریں

حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں۔ گناہوں کی تین تاثیر پکی ہیں۔ اللہ پاک رزق کو تنگ کر دیتے ہیں۔ آپ نےدیکھا ہو گا بڑے بڑے مالدار لوگ۔ فیکڑیوں کے مالک بھی اگر گناہوں کی لائن میں لگ جائیں۔ اگر اللہ کو ناراض کرنے میں لگ جائیں۔ ان پر بھی اللہ پاک رزق کی تنگی کر دیتے ہیں۔ اللہ پاک بندے کو مال دولت دے کر بھی ٹائٹ کر دیتے ہیں۔ اورکبھی کبھی رزق کے حصول میں اللہ پاک مشکل پیدا کردیتے ہیں۔ایک شخص عشاء کی نماز کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ اور آ کر کہنے لگا اے حضرت علی رضی اللہ عنہ میں بہت مالدار تھا۔ پھر اچانک پیسہ گھر سے جانے لگ پڑا۔ میرا کاروبار بند ہونے کے قریب آ گیا ہے۔

مجھے سمجھ نہیں ہے آرہی میں کیا کروں۔ اب جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتا ہوں وہ ختم ہو جاتاہے۔یہ شخص اپنے شکوے سنا رہا تھا۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی کمزوری سمجھ گئے۔ اور فرمایا اے شخص تو اپنے گناہوں کو چھوڑ دے۔تو گناہوں کو چھوڑ دے گا تو تیرے گھر میں رزق آنا شروع ہوجائے گا۔ تیرے رکے ہوئے کام پورے ہونا شروع ہو جائیں گے۔ وہ شخص کہنے لگا آپ مجھے اشارہ تو دیں میں کیسے گناہوں کو چھوڑ دوں۔

رزق کم کیوں ہوتا ہے

تو حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے۔ اے شخص تو اپنی زندگی میں جو گناہ روزانہ کرتا ہے۔ اور جان بوجھ کر کرتا ہے۔ نماز نہیں پڑھتا اور جب آذان ہوتی ہے۔  تم مسجد کی جانب نہیں جاتے۔ تو نماز پڑھنا شروع کر دے۔ اگر شراب پیتا ہے تو شراب کو چھوڑ دے۔ جو برائی تو جان بوجھ کر کرتا ہے۔ وہ برائی چھوڑ دے وہ گناہ چھوڑ دے۔ اگر کوئی جانے انجانے میں تجھ سے کوئی گناہ ہوجائے۔ تو رات کو سونے سے پہلے اپنے اللہ سے گناہوں کی معافی مانگ لے۔

کہ یا اللہ جو گناہ مجھ سے جانے انجانے میں ہوئے۔تجھے معلوم ہے تو دلوں کے رازوں کو جانتا ہے۔ یااللہ میرے ان گناہوں کو معاف فرما۔ انشاء اللہ تو یہ کام کرے گا تو تیرے اٹکے ہوئے کام بھی ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں میری ڈیل ہوتے ہوتے رہ گئی ہے۔ یہ جو ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے یہ کسی وجہ سے ہے۔مگر جب عاملین کے پاس جاتے ہیں تو وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ کسی نے کچھ کر دیا ہے۔ اللہ پاک ان سے بچائے کسی نے بھی کچھ نہیں ہے۔کیا اللہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمارا رزق تنگ کر دیتے ہیں۔ لگتا ہے کسی نے کاروبار بند کر دیا ہے۔ کیوں کسی کو چھوٹا خدا کیوں مانتے ہیں۔ کاروبار اللہ نے چلانا ہے۔اور اللہ نے ہی روکنا ہے۔

گناہوں سے توبہ

اللہ پاک دینا چاہیں تو ساری مخلوق اکھٹی ہو جائے۔ تو روک نہیں ہے سکتی اللہ نہ دینا چاہیں تو ساری مخلوق اکھٹی ہوجائے۔ تو کچھ دے نہیں سکتی۔ ہم سچی توبہ کر کہ دیکھیں راستے کھلتے ہیں۔کہ نہیں چھوٹے عاملین کی یہ نشانی ہے۔ یہ بتا تو دیتے ہیں کسی نے کچھ کیا ہے۔ لیکن حل نہیں کر سکتے لیکن اس کا حل ایک ہی ہے۔حل یہ ہے کہ تنہائی میں وضو کر کے دو نوافل رکعت پڑھ لیں۔ اپنے اللہ سے صلح کر لیں کہ میرے اللہ آج تک جتنے بھی گناہ کئے ۔میں سب سے توبہ کرتا ہوں۔ میں آج کے بعد نا فرمانی نہیں کروں گا۔ آپ اللہ سے صلح کر لیں گے تو اللہ آپ کے لئے بند دروازوں کو کھولنے لگ پڑیں گے۔اس عمل کو دوسرے بھائیوں تک صدقہ جاریہ کی نیت سے شیئر لازمی کریں۔

Sharing is caring!

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *