خانہ کعبہ کا دروازہ سال میں کتنی بار کُھلتا ہے؟ جانیں دلچسپ معلومات

دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسلمان کعبہ شریف کا طواف کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ دینِ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بیعت اللہ یعنی خانہ کعبہ کے اندرونی حصے میں بھی عبادت کا شرف حاصل کر سکیں۔ لیکن قسمت والے ہی اس بہترین موقعے سے مستفید ہوپاتے ہیں۔ کعبہ شریف میں داخل ہونے کے لئے صرف ایک دروازہ ہے

جسے ملتزم یا بابِ کعبہ کہا جاتا ہے۔ باب کعبہ زمین یا حرم کے فرش سے 2.13 میٹر اوپر ہے۔یہ مخصوص دروازہ کعبہ شریف کی شمال مشرقی دیوار پر نصب ہے اور اس کے قریب ترین دہانے پر حجر اسود موجود ہے جہاںسے طواف کا آغاز ہے۔خانہ کعبہ کے مقدس دروازے کی تنصیب اور تزئین و آرائش تقریباً 14 ملین سعودی ریال سے ہوئی جو کم و بیش پاکستان کے37 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد بنتے ہیں۔قریش قبیلے نے اپنے دور میں خانہ کعبہ کا طول اٹھارہ گز اوراندر جانے کے لئے صرف ایک دروازہ رکھا تھا، اور وہ دروازہ بھی بلندی پر بنایا گیا تھا تاکہ ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر کوئی شخص اندر داخل نہ ہوسکے۔سنہ 1977ء میں شاہ خالد نے دروازے اور اس کی خوبصورت ترین آرائش کا حکم دیا۔ نئے دروازے کو اڑھائی سینٹی میٹر موٹی ایلومینیم کی تہہ سے بنایا گیا اور اس کی بلندی 3.1 میٹر تھی۔ اس دروازے پر سونے اور چاندی کی پرت چڑھائی گئی۔خلیجی اخبارالعربیہ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق ماضی میں کعبے کا دروازہ ہر ماہ دو سے تین بار کھولا جاتا تھا تا کہ تمام لوگوں کو داخلے کا موقع مل سکے تاہم آج یہ پورے سال میں صرف دو مرتبہ کھولا جاتا ہے۔ایک مرتبہ یکم شعبان کو غسل کعبہ کے موقع پر اور دوسری مرتبہ یکم ذوالحجہ کو اس کے غسل اور نئے غلاف کی تبدیلی کے موقع پر۔ علاوہ ازیں یہ خادم حرمین شریفین کی اجازت سے مملکت کے خصوصی مہمانوں کے لئے بھی کھولا جاتا ہے

اور عام فرد کا اندر داخل ہونا سختی سے منع ہے۔بیت اللہ کو عام داخلے کے لئے اب نہیں کھولا جاتا ہے۔ اس کی وجہ مردوں اور عورتوں کے بے پناہ رش کی وجہ سے تکلیف اور نقصان پہنچنے سے بچانا ہے۔ بالخصوص جب کہ حالیہ چند سالوں میں حجاج کرام اور معتمرین کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایسی صورت حال میں کعبے کے متولی اور سکیورٹی اہل کاروں کے لیے بیت اللہ کے تقدس کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔دروازہ کس طرح کھولا جاتا ہے ؟بیت اللہ کے اعلیٰ متولی ڈاکٹر صالح زين العابدين الشيبی کعبے کا دروازہ کھولنے کی کارروائی کرتے ہیں جہاں متولی کی جانب سے دو افراد دروازہ کھولتے ہیں۔ ایک شخص چابی داخل کرتا ہے اور دوسرا ُقفل کو کھینچتا ہے۔ یہ ُقفل تکون شکل میں ہوتا ہے۔ کعبے کے دروازے کی اونچائی 2.4 میٹر جب کہ چوڑائی 1.7 میٹر ہے۔کعبے شریف کے دروازے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ہمیشہ سے عالم اسلام کے خلفاء اور فرماں رواؤں کا مطمع نظر رہی ہے۔ وہ اللہ عزوجل کے اسماء حسنی کے نیچے اپنے نام تحریر کرواتے اور اس پر سونے چاندی کے استعمال میں کسی قسم کے بخل کا مظاہرہ نہیں کرتے۔البتہ کعبے کے دروازے کی چابی آل شیبہ خاندان کے پاس ہی محفوظ رہتی ہے۔ اس لئے کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی اُمت کے نام وصیت کے مطابق بیت اللہ کے متولی ہیں۔بیت اللہ یعنی کعبے کا دروازہ دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نظروں میں اپنے پورے تقدس کے ساتھ چمکتا ہے۔ حجاج کرام کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ مقدس دروازے کو بوسہ دیں اور اللہ سے اپنی فریاد پوری کروائیں۔

Sharing is caring!

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *