ڈپریشن ،ٹینشن،خوف ،گھبراہٹ انشاء اللہ سب ختم فیصلہ آپ کے ہاتھ میں

جس طرح ذیابیطس بلیڈ پریشر ،یورک ایسڈ ایک بیماری ہے اسی طرح ڈپریشن بھی ایک بیماری ہے یہ کسی بھی انسان کو ہوسکتی ہے چاہے وہ اندر سے کتنابھی کمزور کیوں نہ ہو ۔وقتاً فوقتاً سبھی لوگ اُداسی مایوسی اور بیزاری محسوس کرتے ہیں عموماً یہ علامات ایک یا دوہفتے میں ٹھیک ہوجاتی ہے ۔

طبی اعتبار سے اُداسی اس وقت ڈپریشن کی شکل اختیار کرجاتی ہے جب اُداسی کی شد ت اتنی زیادہ ہو کہ معمولات زندگی متاثر ہونے لگے ۔ اُداسی کا احساس بہت دنوں تک رہے اور ختم نہ ہو۔ڈپریشن کی شدت عام اُداسی سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے ۔

اس کا دورانیہ کئی مہینوں تک چلتا ہے ۔ درج ذیل علامات ڈپریشن کی نشاندہی کرتی ہے ۔ ان میں سے چار آپ میں پائی جاتی ہیں۔ تو اس کا قوی امکان ہے آپ ڈپریشن کا شکار ہیں ۔ زیادہ تر اُداس اور افسردہ رہنا دلچسپی کی چیزوں اور کاموں میں بھی دل نہ لگنا ۔

جسمانی یا ذہنی کمزوری محسوس کرنا بہت زیادہ تھکا تھکا رہنا اپنے آپ کو دوسروں سے کم تر سمجھنا اپنے آپ کو فضول اور ناکارہ سمجھنا ۔خودکشی کے خیالات یا کوشش کرنا ۔نیند نہ آنا اور بھوک نہ لگنا۔ سر گردن میں ہلکا درد اور کھینچاؤ رہنا ۔ ڈپریشن کیوں ہوتا ہے

اس کی وجوہات کیا ہیں۔ بعض تکلیف دہ واقعات قریبی عزیز کے انتقال ،طلاق بیماری یا نوکری ختم ہوجانے کے بعد کچھ عرصہ اُداس رہنا فطری بات ہے کچھ لوگ اس سے باہر نہیں آپاتے اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انسان کا تنہا ہونا کسی مخلص دوست اور عزیز کا نہ ہونا بھی ڈپریشن کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔

ایسی بیماریاں جو زندگی کیلئے خطر ہ ہوں کینسر دل کی بیماریاں یا وہ بیماریاں جو لمبا عرصہ چلتی ہوں یہ بھی ڈپریشن کا شکار بنادیتی ہیں۔ ڈپریشن کی تیسری وجہ انسان کی اپنی شخصیت بھی ہوسکتی ہے ۔ اور بچپن کے حالا ت اور واقعات بھی ہوسکتی ہے ۔

ڈپریشن کی بیماری خاندانی بھی ہوسکتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے والدین میں سے کسی ایک کو ڈپریشن یا ذہنی بیماری ہے اس کا خطرہ دوسرے لوگوں سے آٹھ گناہ زیادہ ہے ۔ جو ڈپریشن میں مبتلا ہے وہ کس طرح اس کو کم کرسکتا ہے ۔

اپنی جذبات کیفیات کو راز نہ رکھیں بلکہ مختلف دوستوں اور عزیزوں سے شیئر کریں۔ اسے یہ بھی بتائیں کہ اندر سے آپ کیسا محسوس کریں۔ اس کے علاوہ کچھ نہ کچھ ورزش کرتے رہیں۔ آدھا گھنٹہ چہل قدمی ہی کیوں نہ ہو۔اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھیں تاکہ ذہن تکلیف دہ خیالات سے بچا رہے ۔

ڈپریشن اور ٹینشن کیوجہ سے معدے پر بہت اثر پڑتا ہے ۔ معدہ گیس پیدا کرنا شروع کردیتا ہے ۔جس سے سینے کی جلن درد اور گھٹن بڑھ جاتی ہے ۔ متوازن غذا کھائیں تازہ سبزیوں اور پھلوں سے بہت زیاد ہ فائدہ ہوتا ہے ۔ شراب نوشی پرہیز کریں اس سے وقتی کم ہوکر شدت اختیار کرجاتا ہے ۔

نیند کے نہ آنے سے پریشان نہ ہوںَاگر آپ سو نہ سکیں آرام سے لیٹ کر ٹی وی دیکھیں یا کچھ سن لیں اس سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا اور گھبراہٹ کم ہوگی ۔اپنے ڈپریشن کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کو لگتاہے کہ آپ کو ڈپریشن کی وجہ معلوم ہے اس کو لکھیں اس پر غور کریں اور ختم کرنے کی کوشش کریں۔

مایوس نہ ہوں آپ جس عزیت اور تکلیف سے گذر رہے ہیں اس سے اور لوگ بھی گذر چکے ہیں ایک نہ ایک دن ڈپریشن ضرور ختم ہوجائیگا۔ڈپریشن کے معاملے میں اچھی خبر یہ ہے کہ اسی فیصد ڈپریشن کے مریض علا ج کے بغیر ٹھیک ہوجاتے ہیں

اس میں چار چھ مہینے یا اس سے بھی زیادہ کا عرصہ لگتا ہے ۔ڈپریشن کا علاج سائیکو تھراپی یعنی باتوں سے یا اینٹی بائیوٹک ادویات سے کیا جاتا ہے ۔ سائیکوتھراپی میں مریض کو ایک گھنٹے کیلئے اپنے ڈاکٹر سے ملنا ہوتا ہے ۔اکثر لوگوں اپنے احساسات بااعتماد شخص کیساتھ شیئر کرنے سے طبیعت بہتر محسوس ہوتی ہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں