پیارے نبیﷺ نے فرمایا تین عادتیں جس میں ہوںہمیشہ اللہ کی محبت سے محروم ہوگا

اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو مختلف درجات عطاء کیے ہیں ۔اللہ کے ہاں درجات کے بلند ہونے کا پیمانہ ایمان او راعمال ہیں ۔جس کا جتنا ایمان اللہ کی ذات پر پختہ ہوگا اور اللہ کے ساتھ جتنا تعلق قائم ہوتا جائیگا اتنا ہی وہ اللہ کے ہاں بلند درجات پائے گا اور اسی طرح سے جو اخلاص کیساتھ نیک اعمال کرتا رہیگا

ا س کے درجات بھی بلند ہوتے چلے جائیں گے ۔ اس کے برعکس جو انسان اللہ کے ساتھ مقابلہ کرے گا اپنے علم کیوجہ سے بھٹک جائیگا ۔ وہ کبھی بھی بلند درجات تک نہ پہنچ سکے گا۔ ذلت ورسوائی اس کا مقدر ہوگی ۔ آج ہم آپ کو تین ایسی چیزوں کے بارے میں بتائیں گے جو انسان کے بلند درجات تک پہنچنے میں مانع ہوسکتی ہیں۔

اس بارے میں فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے یہ تین چیزیں جس شخص میں ہوں وہ بلند درجات تک نہیں پہنچ سکتا ۔پہلی چیز جو اپنی آٹکل آئندہ کی بات بتائیں یا فال کی تیروں سے اپنی قسمت معلوم کرے یا بدشگونی کیوجہ سے اپنے سفر سے رک جائے ۔

عالم الغیب ذات صرف اللہ کی ذات ہے ۔ اگر کسی شخص میں صفت ہو وہ بغیر کسی دوسرے کی مدد سے اپنے علم کیوجہ سے جان لے آئندہ کیا ہونے والا ہو یا اس کے پاس ایسا علم ہو جو چھپی ہوئی چیزیں بغیر کسی مدد کے ظاہر ہو جائیں ایسا شخص عالم الغیب کہلائے گا ۔

اب ہم ایسا شخص مخلوق میں تلاش کریں تو یہ ناممکنات میں سے ہے اگر کوئی ایسا دعوی کرتا یا کرتی ہے تو وہ کذاب اور اس کا ایمان فاسد ہے ۔ ایسی قوت صرف اللہ کی ذات ہے جوکچھ آئندہ ہونیوالا ہے یہ دعویٰ صرف اللہ سبحان وتعالیٰ کا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے عالم الغیب ہونے کی قرآن مجید میں کئی جگہ دلیلیں بتائیں ۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میں ہی عالم الغیب ہوں میرے علاوہ کوئی غیب نہیں جانتا ۔دوسری چیز کا حدیث میں ذکر ہے کہ فال کے ذریعے سے قسمت معلوم کرنا ۔ اسلام میں استخارہ کا ذکر تو ملتا ہے لیکن فال کو جاہلانہ اور مشرکانہ فعل کہا گیا ہے

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے استخارہ کی بڑی حکمت بتائی ہے اس کے ذریعے انسان کو فال نکالنے کے عمل سے نجات ملتی ہے ۔ زمانہ جاہلیت میں مشرکین تیروں کے ذریعے فال نکالتے کوئی سفر یا تجارت ہوتی کوئی شادی طے کرنی ہوتی یا کوئی اور فیصلہ تو کعبہ شریف کے مجاور کے پاس جاتے

اس مجاور کے پاس ایک تھیلے میں کچھ تیر رکھے ہوتے ۔مجاور وہ تھیلا ان کے سامنے رکھتا وہ ہاتھ ڈال کر تیر نکالتے اگر امرانی ربی والا تیر نکلتا تو کہتے یہ کام بہتر ہے کیونکہ امرانی ربی کا مطلب ہے میرے رب نے مجھے حکم فرمایا ہے اگر نہانی رب میرے رب نے مجھے منع فرمایا یہ والا تیر نکلتا تو وہ اس کام سے رک جاتے ۔

اسے تیروں سے قسمت معلوم کرنا کہا جاتاتھا قرآن مجید نے اس عمل کو حرام قرار دیا اس میں دوبڑی خرابیاں تھیں یہ ایک بے بنیاد عمل ہے محض اتفاق ہے ۔اس میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور اضطراب باندھنا ہے اللہ تعالیٰ نے کہا حکم فرمایا اور کہاں منع فرما یا تیروں کی عبارت کو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ قرار دے دینا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے

یہ حرام ہے۔نبی کریم ﷺ نے فال کی جگہ استخارہ کی تلقین کی۔تیسری چیز کا ذکر کیا گیا ہے وہ ہے بدشگونی ۔ظاہری اسباب میں اثر انگیزی پیدا کرنے والی ذات وہی ہے کسی چیز دن یا مہینے کو منہوس سمجھنا اور اس میں کام کرنے کو برے انجام کا سبب قرار دینا غلط بدشگونی اور تہم پرسی

اور قابل مذمت ہے۔نفع اور نقصان کے اختیار کا سوفیصد یقین اللہ کی ذات سے ہونا چاہیے ۔جب وہ خیرپہنچاتا ہے تو کوئی شر نہیں پہنچاسکتا ۔ اگر مصیبت نازل کردے تو کوئی اس سے رہائی نہیں دے سکتا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں