خواجہ سرا مشہور اینکر ماریہ میمن کو اپنی زندگی کی حقیقت بتاتے ہوئے

“خواجہ سرا کی زندگی کی حقیت میں ایک خواجہ سرا ہوں اور اس بات کو تسلیم کرتا ہوں۔ میں خدا کی بنائی ہوئی مخلوق ہوں اور اس بات کو ماننے میں مجھے کوئی شرم نہیں“یہ الفاظ ہیںخ ڈاکٹر معیز کے جو ڈاکٹر ہونے کے علاوہ ایک ریسرچر ہیں اور کافی تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔ اپنی تمام تعلیمی قابلیت ہونے کے علاوہ ان کی شناخت ایک خواجہ سرا کی بھی ہے جن کے بارے میں عام طور پر معاشرے میں بہت طرح طرح کی باتیں کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر معیز نے ماریہ میمن کے پروگرام میں ان مفروضات پر بات کی جس کے بارے میں ہم اپنے قارئین کو اس آرٹیکل میں آگاہ کریں گے۔

بچپن میں ٹیچر نے ڈانٹا
ماریہ نے ڈاکٹر معیز سے پوچھا کہ ان کو اس بات کا احساس کب ہوا کہ وہ باقی بچوں سے مختلف ہیں تو ڈاکٹر معیز نے بتایا کہ انھیں بچپن سے ہی اس بات کا احساس ہوگیا تھا اور ایک بار جب وہ بہت چھوٹے تھے تو انھوں نے اپنی ٹیچر کو بتایا کہ انھیں راجستھانی شیشوں والا فراک پہننا ہے تو ٹیچر نے اسی وقت گھر فون کیا اور ان کے ماں باپ کو بتایا اور کہا کہ آئیندہ ایسی بات نہیں کرنی۔

پورا گھنٹہ باتھ روم میں بند رہتا تھا
پھر جیسے ہی وہ نویں جماعت میں آئے بائولوجی پڑھتے ہوئے ان کے دوست ان کہ طرف اشارے کرکے ہنستے اور مذاق اڑاتے تھے۔ جس سے بچنے کے لئے معیز پورے پیریڈ خود کو باتھ روم میں بند کرکے رکھتے تھے باوجود اس کے کہ وہ ایک ٹاپر طالب علم تھے۔زنانہ لباس پہنتا ہوں
ڈاکٹر معیز کا کہنا ہے کہ لباس کو خوبصورت ہونا چاہئے اور ایسا ہونا چاہئے جو انسان کو اچھا لگتا ہو۔ وہ ہمیشہ لباس پہنتے ہوئے اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ اچھے لگیں لیکن وہ زنانہ لباس پہن کر باہر بھی جاتے ہیں وہ لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں عورت دبی ہوئی نہیں ہے آزاد اور طاقتور ہے۔اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار ضراورکریں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.