اللہ تعالیٰ کس شخص کو جلد دولت سے نوازتا ہے؟

بنی اسرائیل کے ایک آدمی نے شیطان سے کہا کہ ایک راز کی بات تو بتا دے کہ تیرے دوست کون ہیں تجھے پسند کون ہیں کہنے لگا تین قسم کے لوگ مجھے بہت پسند ہیں ۔ ایک جو شراب پیتا ہو ۔نشہ کرتا ہو 1۔ ایک جو غصّے والا ہو قابو نہ کرتا ہو 2۔ ایک جو بخیل ہو کسی پہ خرچ نہ کرتا ہو 3۔ بخیل جہنم کے قریب ہوتے ہیں،اللّه سے دور ،لوگوں سے دوراورجنّت سے دور ہوتے ہیں سخی جہنم سے دور ،اللّه سے قریب ،جنّت سے قریب ،لوگوں کے قریب اور اللّه کا پیارا ہوتا ہے جب بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا کی تو اللّه نے کہا سب کو قتل کرو جب سامری پکڑا گیا۔

جس نے یہ پوجاشروع کروائی تو اللّه پاک نے سفارش کروائی اے موسیٰ! سامری کو چھوڑ دو۔حضرت موسیٰ نے کہا :یا اللّه سامری کو چھوڑ دوں اسی نے تو بچھڑا بنوايا اسی نے تو یہ شرک کروایا تو کہتا ہے سامری کو چھوڑ دوں ۔تو پتا ہے اللّه نے کہا اے موسیٰ یہ کمبخت سخی ہے اور سخی کو قتل کرنا مجھے اچھا نہیں لگتا اس کا کفر تھا لیکن سخاوت اس کو قتل سے بچا گئی ۔ زکوة ادنیٰ درجہ ہے سخاوت کا جو زکوۃ دیتا ہے وہ بخیل کے درجے سے نکل آتا ہے لیکن سخی نہیں بنتا۔

اگروہ زکوۃ کی رقم سے ایک روپیا بھی زیادہ دے تو وہ سخی بن جاتا ہے ۔ دکھ کی بات یہ ہے ہمارے تعلیمی ادارے تعلیمی ادارے نہیں ہیں کاروباری ادارے ہیں یہ بچوں کو علم نہیں دے رہے اور طلباء بھی کوئی طلباء نہیں ہیں وہ بھی ڈگری والے ہیں ۔طلبہ کو تعلیم لینے کا شوق نہیں اور اساتذہ کو دینے کا شوق نہیں۔ وہی قوم سر اٹھا کے جیئے گی جن کا علم اپنا ہوگا۔ تو اگر ہم اپنے طلباء کو سخاوت کا درس دیں تو اللہ پاک ہماری قوم پہ کرم کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں