انڈے دانی میں پانی کی تھیلیاں بننا وجوہات،علامات اورعلاج

آج ہم انڈے دانی کی رسولی یا پانی کی تھیلی بھی کہا جاتا ہے کہ بارے میں بتائیں گے اس کی علامات اوروجوہات کے بارے میں آپ کو آگاہ کریں گے ۔ جو سولہ سال سے لیکر چالیس سال کے عمر کی عورتوں میں یہ مرض دیکھا گیا ہے ۔بعض اوقات مریض اس چیز سے آگاہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ اس کے انڈہ دانی کے اندر پانی کی تھیلی موجود ہے ۔ مریض معائنے کیلئے تشریف لے جاتی ہیں ان کو کوئی اور پریشانی ہوگی لیکن پتہ چلتا ہے کہ اسکے اندرپانی تھیلی کا مرض ہے ۔ اس حالت میں پیشاب کرنے میں رکاوٹ ہوسکتی ہے ۔

پانی کی تھیلیوں کی وجوہات میں انڈے دانی میں چھوٹی چھوٹی پانی کی تھیلیاں موجود ہوتی ہیں جس سے یہ انڈے کی برھوتڑی کا مسئلہ ہوجاتا ہے اور عورتیں بانجھ پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔بہت ساری انفیکشن ہوسکتی ہیں جیسا کہ پی آئی ڈی یہ انفیکشن ٹیبوں اور انڈے دانی کو ملا کر ایک میس سا بنا لیتی ہیں۔ انڈے دانے کی کچھ رسولیاں ہوتی جو خطرناک بھی ہوسکتی ہے یہ ڈاکٹر الٹراساؤنڈ کرکے اندازہ لگالیتی ہیں کہ اس کا علاج کیا ہے ۔ اس میں کون کونسے ٹیسٹ کروانے ہوتے ہیں۔

الٹراساؤنڈ بہت اہم ہے جس سے پتا چلتا ہے پانی تھیلیاں کس نوعیت کی ہیں۔ اس کے علاج میں کچھ صورتحال میں ڈاکٹرز کو کچھ پتہ نہیں چل رہا ہوتا کہ پانی کی تھیلیاں کس نوعیت کی ہیں عموماً ایک یا دو مہینے یہ ختم ہوجاتی ہیں اس کیلئے کوئی علاج ضرور ت نہیں پڑتی ۔ دوسرا علاج ڈاکٹروں کے پاس کچھ ادویات موجود ہوتے ہیں

ان میڈیسن کے دینے سے یہ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور ختم ہوجاتی ہیں۔ اگر ان میڈیسن سے بھی ختم نہ ہورہی ہوں پھر ڈاکٹر ز سرجری کے ذریعے پیٹ میں کٹ لگا کر بھی نکال لیتے ہیں۔ پھر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں یہ خطرناک قسم کی پانی کی تھیلیاں تو نہیں تھیں ۔ اس کے بعد کچھ میڈیسن دی جاتی تاکہ مستقل طور پر اس کاعلاج ہوسکے ۔اگر اس قسم کی علامت ہورہی ہے توآپ نے اس کم تر نہیں سمجھنا فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

کیٹاگری میں : health

اپنا تبصرہ بھیجیں