ہر دعا فوراََ قبول ہو گی

 ہر انسان کی ایسی دعا جو اخلاص کے ساتھ کی جائے، وہ قبول ضرور ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کاوعدہ ہے جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ﴿وَقالَ رَ‌بُّكُمُ ادعونى أَستَجِب لَكُم٦٠ ﴾ سورة غافر ”اور تمہارے ربّ کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا” لیکن دعاکی قبولیت کی تین مختلف صورتیں ہیں جیساکہ حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا

«ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها إثم ولا قطيعة رحم إلا أعطاہ الله بها إحدی ثلاث: إما أن تعجّل له دعوته، وإما أن يدخرھا له في الآخرة، وإما أن يصرف عنهمن السوء مثلها، قالوا : إذًا نُکثر، قال: الله أکثر» ”جب بھی کوئی مسلمان ایسی دعا کرے جس میں گناہ یا صلہ رحمی نہ ہو، تو اللہ ربّ العزت تین باتوں میں سے ایک ضرور اُسے نوازتے ہیں: یا تو اس کی دعا کو قبول فرما لیتے ہیں یا اس کے لئے آخرت میں ذخیرہ کردیتے ہیں اور یا اس جیسی کوئی برائی اس سے ٹال دیتے ہیں۔ صحابہؓ نے کہا: پھر تو ہم بکثرت دعا کریں گے۔ تو نبیؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ بخشنے (عطا کرنے) والا ہے۔” (احمد :۳؍۱۸)

اس حدیث سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کوئی مسلمان دعا کے مذکورہ بالا آداب وضوابط اور شروط و قواعد کو مد ِنظر رکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور دست ِسوال دراز کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور بضرور اس کی دعا قبول فرماتے ہیں۔ البتہ دعا کی قبولیت کی تین مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ سائل کو اس کے سوال ومطالبہ سے نواز کر اس کی دعا قبول کی جاتی ہے اور عموماً اسے ہی مقبول دعا خیال کیا جاتا ہے۔

اس صورت کی مزید دو حالتیں ہیں، ایک تو یہ کہ ادھر دعا کی جائے او رادھر اسے فوراً قبول کرلیا جائے جس طرح حضرت زکریا ؑنے اللہ تعالیٰ سے طلب ِاولاد کی دعا ﴿رَ‌بِّ هَب لى مِن لَدُنكَ ذُرِّ‌يَّةً طَيِّبَةً٣٨ ﴾ سورة آل عمران”اے میرے ربّ! مجھے تو اپنے پاس سے اچھی اولاد عطا فرما۔” تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی دعا قبول کرلی اور فرشتوں کے ذریعے انہیں باخبر کیا کہ ﴿أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُ‌كَ بِيَحيىٰ﴾”یقینا اللہ تعالیٰ آپ کو حضرت یحییٰ (بیٹے) کی خوشخبری دیتے ہیں۔”

دنیا میں قبولیت ِدعا کی دوسری حالت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ دعا طویل عرصہ کے بعد قبول ہو جیسے حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی: ﴿رَ‌بَّنا وَابعَث فيهِم رَ‌سولًا١٢٩﴾ سورة البقرة” اے ہمارے ربّ ! ان میں سے رسول بھیج”جبکہ ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا سینکڑوں برس کے بعد قبول ہوئی اور ابراہیم نے جس رسو ل کی بعثت کی دعا فرمائی، وہ آنحضرت ﷺ کی صورت میں قبول ہوئی۔ جیسا کہ آنحضرتؐ ہی فرماتے ہیں: (الفتح الربانی: ۲۰؍۱۸۱)”میں اپنے باپ حضرت ابراہیمؑ کی دعا، حضرت عیسیٰؑ کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں۔”

جبکہ اس کے علاوہ بھی قبولیت کی دو صورتیں ہیں جنہیں لوگ ‘قبولِ دعا’ کی فہرست میں شامل نہیں سمجھتے، یعنی سائل کی دعا دنیا میں تو پوری نہیں ہوئی، البتہ اس دعا کو روزِ قیامت اجروثواب بنا کر سائل کے نامہ اعمال میں شامل کردیا جائے گا یا بسا اوقات اس دعا کی برکت سے سائل و داعی سے کسی آنے والی مصیبت کو ٹال دیا جاتا ہے جس کا اندازہ دعا کرنے والے کو نہیں ہو پاتا اور وہ یہی سمجھتا کہ شاید اس کی دعا قبول نہیں ہوئی جبکہ اس کی دعا بارگاہِ خداوندی میں قبول ہوتی ہے مگر اس قبولیت کی صورت ہمارے خیالات سے کہیں بالا ہوتی ہے۔

بعض اوقات دعا کی جو صورت ہمارے سامنے ہے، اللہ اس سے بہتر صورت میں اس کی تکمیل کردیتے ہیں، اور وہی ہمارے حالات کے زیادہ موافق ومناسب ہوتی ہے، تو یہ بھی قبولیت ِدعا کی ایک صورت ہے۔ اس میں بعض اوقات تاخیر ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم اس قبولیت ِدعا کو بظاہر اپنے لئے اچھا خیال نہیں کرتے لیکن وسیع تناظر میں یا دور اندیشی کے طور پروہی بات ہمارے حق میں زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ الغرض آداب و شروطِ دعا کو مدنظر رکھتے ہوئے دعا مانگی جائے تو وہ کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں