حضرت عمر ؓ نے فرمایا: جب بھی مجھ پر کوئی مصیبت آتی ہے تو؟

جمعہ کا دن تھا،مسجد نبوی ﷺ میں لوگ خلیفہ وقت حضرت عمر بن الخطاب ؓ کا انتظار کر رہے تھے،حضرت عمر ؓ کچھ دیر سے پہنچے۔حضرت ابو ذر غفاری ؓ نے اٹھ کر کہا کہ اے عمر جلدی آیا کرو:ہم تمہارے نوکر نہیں جو انتظار کریں:حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ :

جب تک ان جیسے لوگ موجود ہیں، حکمران کبھی رعایا پر ظلم نہیں کرسکتا اور کہا کہ میرے پاس صرف ایک کرتہ ہے پہننے کے لئے،میری بیوی نے وہ دھودیا تھا اس لئے دیر ہوگئی۔تعلق حق والوں سے ہو اور بندہ باطل سے ڈر جائے ممکن نہیں۔ اللہ پاک انہیں سمجھے جو غریبوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا :

جب بھی مجھ پر مصیبت آتی ہے تو مجھے اس میں تین نعمتیں نظر آئی:1۔اللہ تعالی نے فضل کیا وہ اس سے بڑی مصیبت بھی بھیج سکتا ہے۔2:اللہ تعالیٰ نے مجھ پر دنیا کی آزمائش ڈالی اور دین کی آزمائش سے بچائے رکھا۔3:اللہ تعالیٰ اس مصیبت کے عوض قیامت کے روز مجھے نوازے گا۔ایمان کے بعد نیک بیوی سے زیادہ کوئی نعمت نہیں ۔

حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا :میں نے چار چیزوں میں عبادت کو موجود پایا ہے۔1۔اللہ تعالیٰ کے فرائض کی ادائیگی۔2:اللہ پاک کی منع کی ہوئی چیزوں سے اجتناب ۔3:فقط اللہ پاک سے ثواب پانے کی خاطر امر بالمعروف ۔4:اللہ کے غضب سے بچنے کے لئے نہی عن المنکر۔حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ :رسول پاک ﷺ نے اِرشاد فرمایا کہ :یتیموں اور مساکین کی کفالت کرنے والا قیامت کے

دن میرے ساتھ جنت کے اعلیٰ مقام پر ہوگا۔ہر چیز کا ایک حسن ہوتا ہے اور نیکی کا حسن یہ ہے کہ جلدی کی جائے۔عدل مظلوم کی جنت اور ظالم کی جہنم ہے۔ظالموں کو معاف کرنا مظلوموں پر ظلم ہے۔جوتجھے تیرے عیب سے آگاہ کرے وہ تیرا دوست ہے۔

فتح امید سے نہیں بلکہ علم اور خدا پر بھروسے سے حاصل ہوتی ہے۔جوبرائی سے بے خبر ہے وہ برائی میں مبتلا ہے۔قبل اس کے کہ بزرگ بنو، علم حاصل کرو۔اسراف اس کا بھی نام ہے کہ جس چیز کو انسان کی طبیعت چاہے کھائے۔جو شخص اپنا راز پوشیدہ رکھتا ہے وہ گویا اپنی سلامتی کو اپنے قبضے میں رکھتا ہے۔

جو آدمی اپنے کو عالم کہے وہ جاہل ہے اور جو اپنے آپ کو جنتی بتائے وہ جہنمی ہے۔توبتہ النصوح اس کا نام ہے کہ برے فعل سے اس طرح توبہ کی جائے کہ پھر اس کو کبھی نہ کرے۔قوت فی العمل یہ ہے کہ آج کے کام کل پر نہ اٹھا رکھے جائیں۔اگر غیب دانی کے دعویٰ کا خیال نہہوتا تو میں کہتا کہ پانچ اشخاص جنتی ہیں۔ (1) وہ محتاج جو عیالدار مگر صابر ہو۔

(2) وہ عورت جس کا خاوند اس سے راضی اور خوش ہو۔ (3) وہ عورت جس نے اپنے شوہر کا حق مہر معاف کر دیا ہو۔ (4) وہ جس کے والدین اس سے خوش ہوں۔ (5) وہ جو اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرے۔ایک دفعہ بکری ذبح کی گئی۔ آپ نے غلام سے فرمایا کہ سب سے پہلے میرے پڑوسی یہودی کو گوشت بھیجا

جائے۔ آپ نے بار بار یہی تاکید فرمائی۔ غلام نے عرض کیا کہ آپ بار بار کیوں تاکید فرماتے ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ نے بار بار ہم سایہ کے متعلق تاکید فرمائی ہے، اس لئے میں بھی بار بار کہتا ہوں۔آپؓ نے فرمایا

تین چیزیں محبت بڑھانے کا ذریعہ ہیں (1) سلام کرنا (2) دوسروں کے لئے مجلس میں جگہ خالی کرنا (3) مخاطب کو بہترین نام سے پکارنا۔ندامت چار قسم کی ہوتی ہے۔ (1) ندامت ایک دن کی، جب کوئی شخص گھر سے بے کھانا کھائے چلا جائے۔

(2) ندامت سال بھر کی کہ زراعت کا وقت غفلت میں گزر جائے۔ (3) ندامت عمر بھر کی، جب بیوی سے موافقت نہ ہو۔ (4) ندامت ابدی کہ رب ناخوش ہو۔آپ اکثر دعا مانگتے کہ خدا یا دنیا میں کوئی چیز باقی نہ رہے گی اور نہ کوئی حالت قائم رہے گی۔

تو مجھے ایسا کرلے کہ میں علم کے ساتھ بولوں اور حلم کے ساتھ خاموش رہوں اے اللہ تو مجھ کو بہت دنیا نہ دے کیونکہ شاید میں سرکش ہو جاؤں، اور نہ بہت تھوڑی کیونکہ شاید میں تجھے بھول جاؤں۔ پس تھوڑی اور کافی ہونا بہ نسبت اس کے بہتر ہے کہ زیادہ ہو اور گناہوں میں مبتلا کرے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں