پیارے نبی ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا اس دعا کے اندرموت کے علاوہ ہر بیماری کاعلاج موجود ہے

شفاء صرف اللہ تعالیٰ ہی دینے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے جب میں بیمار پڑتا ہوں وہی مجھے شفاء دیتا ہے ۔شفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی گئی ہے مگر بیماری کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی گئی ۔ کیونکہ نعمتیں جتنی بندے کو ملتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہیں۔ انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے

وہ زیادہ تر اس کے اعمال کیوجہ سے پہنچتی ہے ۔اس بات میں شک کرنا کفر ہے کہ اگر وہ یقین کرے کہ شفاء اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی دینے والا ہے البتہ علاج کروانے کی ممانعت نہیں ہے ۔ علاج کروانے میں بھی اللہ تعالیٰ کے حکم اور نبی کریمﷺ کے طریقے کو دیکھنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے شفاء حاصل کرنے کیلئے کیا فرمایا اور آپﷺ نے کیا طریقہ اختیار فرمایا ۔

آج ہم آپ کو حدیث نبویﷺ ایک ایسی دعا بتانے جارہے ہیں جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ موت کے علاوہ ہر بیماری کی اس میں شفاء ہے ۔اگر کوئی مسلمان اپنے بھائی کی عیادت کیلئے صبح کے وقت جاتا ہے ستر ہزار فرشتے شام تک اس کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اگر شام کو عیادت کیلئے جاتا تو ستر ہزار فرشتے اس کیلئے صبح تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔

حضورﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مریض کی عیادت کرے جس کی عجل ابھی نہ آچکی ہے تواس کے پاس بیٹھ کر طاق مرتبہ یہ پڑھے أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يُعَافِيَكَ وَيَشْفِيَكَ۔یہ پڑھنے سے اللہ تعالیٰ مریض کو عافیت بخشیں گے یہ وہ عمل ہے جس کے بارے میں بتایا تھا یہ عمل احادیث سے ثابت ہے اسکا خود حضورﷺ نے حکم فریاہے اس لیے ہم اس کو حضورﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں نبوی عمل کہہ سکتے ہیں ۔

بیماری کو زحمت نہیں سمجھنا چاہیے اگر بیماری میں انسان کو تکلیف پہنچتی ہے لیکن اس سے انسان کو گناہوں سے خلاصی ملتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی یاد میں ہوتا ہے ۔ہمیں جب کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کریں اور شکوہ شکایت سے اجتناب کریں ۔ شفاء اللہ تعالیٰ عطاء فرماتے ہیں جبکہ غم اور بیماری میں کہا جاتا ہے

کہ یہ انسان کے اپنے اعمال کیوجہ سے ہے ۔ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے درد کی شدت سے کہا ہائے میرا سر لیکن جزا فضا غصہ وناراضگی کا اظہار نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور زبان پر کوئی شکوہ وشکایت نہ آنے دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں