گھر میں طوطا پالنے پر اسی گھر میں کونسا عذاب نازل ہوتاہے

طوطوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ گر م علاقوں کیساتھ ساتھ سرد جگہوں پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں لیکن سرد مقامات پر ان کی بہت زیادہ احتیاط کی جاتی ہے ۔ طوطوں کے آٹھ ذیلی خاندان ہیں۔ ان خاندانوں میں سے تین سے زائد اقسام کے طوطے موجود ہیں آٹھ ذیلی خاندانوں میں سے ایک اُلو سے بہت ملتی جلتی ہوتی ہے اس طرح یہ طوطا کم اور اُلو زیادہ نظر آتا ہے ۔

لیکن خاص بات یہ ہے کہ یہ طوطا اُڑ نہیں سکتا ۔ نیوزی لینڈ کے طوطے ہمارے گھروں میں عام ہوچکے ہیں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے طوطے یوں تو بہت خوبصورت ہوتے ہیں لیکن ان کی حرکتیں بہت خطرناک ہوتی ہیں یہ بہت ہی خونخوار قسم کے طوطے ہوتے ہیں ان کی چونچ بہت تیز اور تیز ہوتی ہے ۔ اپنی چونچ سے یہ بھیڑ تک کو ہلاک کرسکتے ہیں۔

اپنی چونچ کی مدد سے بھیڑ کے پچھلے حصے پر حملہ کرکے چیر پھاڑ مچادیتے ہیں ۔بھیڑ کے گردے اور چربی کھا جاتے ہیں ۔ اس قسم کے طوطوں کی عادتیں دوسرے طوطوں سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔ طوطے عام طور پر اپنے انڈے درختوں کے کھوکھلے تنوں میں دیتے ہیں طوطوں کی تمام اقسام گول اور سفید انڈے دیتے ہیں۔

بڑی قسم کے طوطے دو یا تین انڈے دیتے ہیں جبکہ چھوٹے طوطے بارہ تیرہ انڈے ایک ساتھ دیتے ہیں جنوبی افریقہ کے طوطے اپنے انڈے خالی جگہوں پرنہیں دیتے بلکہ وہ گھاس پھوس سے گھونسلے بناتے ہیں اور اس میں انڈے دیتے ہیں طوطے کے بچے جب پیدا ہوتے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے نہ ہی ان کے پر ہوتے ہیں ایک درخت پر طوطوں کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔

یہ مل جل کر کھاتے پیتے ہیں ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں اور خوراک کی تلاش میں دور تک نکل جاتے ہیں ۔آپ کو بتاتے ہیں گھر میں طوطا پالنا کیسا ہے اور پرندوں کو پالنے کے بارے آپﷺ سے کیا سبق ملتا ہے روایت میں آتا ہے سیدنا انس ؓ کے چھوٹے بھائی نے ایک پرندہ پال رکھا تھا

جب رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں تشریف لاتے تو ان سے کہتے اے ابو عمیر پرندے نے کیا کیا بروایت البخاری حدیث 6169یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ آپﷺ نے پرندے رکھنے سے منع نہیں فرمایا ۔ اگر گھر میں پرندہ پالنا منع ہوتا توآپﷺ ضرور انس ؓ کے بھائی کو اس بات سے منع فرماتے اس لیے فقہاء کے نزدیک شوقیا پرندے پالنا جائز اور مباح ہے بشرطیکہ کہیں باہر جائیں

ان کی غذا اور دیکھ بھال کا کوئی مناسب انتظام کرکے جائیں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی تعلیمات میں پرندو ں کے ستانے کے بارے میں سخت ممانعت ہے ۔ ابو داؤد میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کردہ ایک حدیث میں کبوتر کا ذکر ہے ۔ جس میں کبوتر اللہ کے رسول ﷺ کے سر مبارک کے اوپر منڈلا رہا تھا اور اپنی زبان میں شکایت کررہا تھا

کہ کسی نے اس کے گھونسلے سے انڈے اُٹھا لیے ہیں حضورﷺ نے صحابہ میں اعلان کیا ایک صحابی نے انڈے اُٹھانا قبول کیا ۔ اور حکم دیا کہ وہ انڈے واپس رکھ دیں۔ پرندے پالنے میں کوئی حرج نہیں انکا پالنا جائز بھی ساتھ میں یہ شرط بھی لگادی انکو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔جب آپ نے انکو اپنے قبضے میں بند کیا ہے تو آپ کی ذمہ داری ہے

آپ انکی خوراک انکی رہائش اور ہر ضرورت کا خاص خیال رکھیں اگر خیال نہیں رکھیں گے آپ گنہگار ہونگے ۔ یاد رہے حضرت انس ؓ کے بھائی والی حدیث میں صرف پرندے کا ذکر ہے ۔ اس میں پرندے کا نام موجود نہیں ۔چونکہ طوطا بھی ایک پرندہ ہے اسی لیے طوطے کو گھر میں پالنا کوئی حرج وقباحت نہیں ۔بعض لوگ شوق میں پرندے پال لیتے ہیں

لیکن انکا خیال نہیں رکھتے ۔کبھی پانی اور کبھی نہ رکھا جس طرح اپنی خوراک کا خیال رکھا جاتا اسی طرح پالتو پرندوں کا بھی خیال رکھا جائے ۔اگر آپ نے طوطا یا اور پرندہ پال رکھا ہے اسکا خیال نہیں رکھ رہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو دعوت دے رہے ہیں کسی وجہ سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوگیا تو کوئی نہ کوئی عذاب بھی آسکتا ہے ۔ لہذا طوطے پالیے خوشی سے پالیے لیکن انکا خیال رکھئے ۔انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں