حضور نبی کریمؐ کو یہ دعا پڑھ کر کیوں دم کرتے تھےآپ بھی بچوں پر اس کا دم ضرور کریں

نظر بد برحق ہے اور یہ شرعی اور حسی طور پر ثابت ہے ۔نظر بد تیر ہے جو حاسد نظر لگانے والے کے نفس سے نکلتا ہے اور محسود جس پر نظر لگتی ہے اس کی طرف جاتا ہے بعض اوقات تیر لگ جاتا ہے بعض مرتبہ خطاء ہوجاتا ہے اگر یہ تیر ایسی حالت میں لگے کہ نفس کھلا ہو اور کوئی حفاظت کا سامان نہ ہو تو لازماً یہ اثر کرتا ہے ۔

اگر یہ نفس کو اس حالت میں لگے وہ حفاظتی سامان میں لیس ہو تو یہ اس میں نہیں گھستا اورنہ کوئی اثر کرتا ہے کئی دفعہ تو تیر خود پھینکنے والے کی طرف لوٹ جاتا ہے اور اس پر انداز ہوجاتا ہے ۔ نظر لگانے والے شخص کی نگاہ سے کوئی چیز ہلا ک ہوجاتی ہے وہ اللہ کے اس فعل کی وجہ سے جو اس نے عادت بنا دی ہے ۔ یعنی نظر لگانے والے کی نظر پڑنے پر ضرر ضرور پیدا ہوگا ۔

بعض لوگ اس کو توہمات سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ یہ لوگ سماعت اور عقل کے لحاظ سے جاہل ترین لوگ ہیں ان کی عقل پر موٹا حجاب پڑا ہوا ہے ۔یہ لوگ نفس اور روح معارفت صفات اور افعال اور تاثیر کے علوم سے سب سے زیادہ دور ہیں۔ حضورﷺ حسنین کریمین کو نظر بد سے بچانے کیلئے کیاپڑھ کر دم کرتے تھے۔نظر بد کا تصور عقلی لحاظ سے بھی ناممکن نہیں ہے ۔

یہ بات شدہ حقیقت کی طرح ہے اگر آنکھوں میں ایک خاص قسم کی مقناطیسی مہارت حاصل کرلی جائے اس کے ذریعے آدمی دوسروں کے ذہن پر اثرانداز ہوسکتا ہے ۔ اس سائنسی انداز میں ہیپنوٹائز کہتے ہیں ۔آپﷺ کے زمانے میں عرب میں ایسے لوگ موجود تھے جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے ان کی یہ حالت تھی کہ دعویٰ کرکے نظر لگاتے ۔

اگر کسی کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے اس کو دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہوجاتی ۔ تبلیغ اسلام کے موقع پر کفار نے ان افراد کی خدمات حاصل کیں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمﷺ کو ان کے شر سے محفوظ رکھا اور ان بدنیتوں کے تمام حربے ناکام ہوگئے ۔

اس آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے ان میں سے ایک کافر آیا اور پوری ہمت کیساتھ نظر لگانے لگا آپﷺ نے لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھ لیا اور وہ کافر ناکام ونامراد واقس ہوگیا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے کہ نظر لگنا برحق ہے

اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقط کرنے والی ہوتی تو نظر سبقط کرتی ۔حضر ت جبرائیل ؑ نبی کریمﷺ کو دم کرتے ہوئے یہ کلمات پڑھا کرتے تھے ۔الھم اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَیٍْٔ یُّؤْذِیْکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَیْنٍ حَاسِدٍ اَللّٰہُ یَشْفِیْکَ بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں

ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے اور ہر انسان کے شر اور حسد کرنے آنکھ کے شر سے میں اللہ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ حضرت حسن حسین کو ان کلمات کیساتھ دم کیا کرتے تھے ۔ا عیذکما بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان وھامۃ ومن کل عین لامۃ۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ بیماری دور کرنے والے شفاء دیدے تو ہی شفاء دینے والا تیرے سوا کوئی شفاء دینے والا نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں