بازوؤں پر نام لکھنے یا ٹیٹو بنانے سے پہلےپیارے نبیﷺ کا یہ فرمان سن لیں

آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ جسم پر ٹیٹو بنانے کے اعتبار سے اسلامی تعلیمات کیا ہے ۔ ٹیٹو بنوانا جائز ہے اگر ٹیٹو بناہی لیے ہیں ایسے میں نماز ہوگی یا نہیں ان تمام سوالات کے جوابا ت کیا ہے فقہاء کا اس بارے میں کیا کہنا ہے ۔یہ موجودہ دور کی ایک ایسی بیماری ہے جو لوگوں میں پھیلتی جارہی ہے ۔

لوگ مشین سے ہاتھوں پر نام لکھتے ہیں یاد رہے کہ گودنے کا مقصد یہ ہے کہ سوئی سے جسم پر کوئی نشان بنا کر اس میں کوئی رنگدار چیز بھرنا ۔ جس کیوجہ سے جسم پر نشان پختہ ہوجاتا ہے اور مٹتا نہیں۔ چونکہ اب دور ماڈرن ہوچکا ہے یہ مشینی دور ہے اس لیے اس کا نام بھی بدل گیا ہے اس طریقے میں جدت آگئی ہ ۔ پہلے عرب کی عورتوں میں یہ رواج تھا ۔گدوانا ٹیٹو بنوانے کا شرعی حکم کیا ہے

اس بارے میں سن لیں بدن گودنے کی حدیث میں ممانعت آئی ہے ۔ آپﷺ نے اس پر لعنت فرمائی ہے ۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے جس کا ترجمہ ہے آپﷺ نے جسم گودوانے والی پر لعنت فرمائی ہے ۔ حضرت ابو ریحانہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے دس چیزوں سے منع فرمایا بالوں کیساتھ بال جوڑنے سے جسم پر گدوانے سے اور بال نوچنے سے۔فقہاء کی رائے یہ ہے

کہ اگر کسی نے یہ کام کیا اس نے حرا م عمل کیا جس پر اسے گناہ ملے گا۔ ایسی صورت میں وضو اور غسل سہی ہوجائیگا۔ اس لیے کہ مثل مہندی کا رنگ ہے ۔قرآن مجید میں ہے کہ یعنی اللہ بندے کواس کی طاقت سے زیادہ بوجھ کا مکلف نہیں بناتے لہذا یہ مجبوری کی صورت ہوگی فقہی قاعدہ یعنی بعض جگہ ضرورت اور مجبوری کیوجہ سے ناجائز اور حرام شے پر عمل کرنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔

اس صورت میں بھی غسل ہوجائیگا ۔ البتہ یہ بات یاد رہے کہ اگر ٹیٹو وغیرہ میں کسی جانور وغیرہ کا عکس موجود ہوگا ۔ تو نماز مقروح ہوگی ۔ یہ خرافات ایسی ہیں جوکہ مغربی معاشرت سے پھیل رہی ہیں۔ آج مسلمان معاشرے کا نوجوان مغرب سے تعصب لیکر ہر اس عمل کو اپنے شوق میں شامل کررہا ہے

جوکہ مغرب میں فیشن کے نام پر سامنے لایا جاتا ہے ۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مذہب پر عمل کریں اور مغرب کی تقلید سے باز آجائیں۔ جو قوم کسی قوم کی مشابہت کرے گی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس قوم کا حشر اسی قوم کے ساتھ فرمائے گا۔آج کے میڈیا کیوجہ سے ہمارے بچے اور نوجوان جو کچھ نیٹ او ر ٹی وی پر دیکھتے ہیں اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ٹیٹو کی بیماری یہ بھی فلموں اور میڈیا میں دکھائی جاتی ہے ۔

‘ یاد رہے اللہ نے انسان کو پہلے ہی اتنا خوبصورت پیدا فرمایا ہے اسے مزید خوبصورتی کی ضرورت نہیں ہے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے بےشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا ۔ اسے جانورں کی طرح جھکا ہوا نہیں بلکہ سیدھی قامت والا بنایا ۔

اسے جانوروں کی طرح منہ سے پکڑ کر نہیں بلکہ ہاتھ سے پکڑ کر کھانے والا بنایا ۔ اسے علم فہم عقل اور باتیں کرنے کی صلاحیت عطاء کیں۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کو سامنے رکھے اپنی تخلیق پر غور کرے ا س پر روز روشن کی طرح واضح ہوجائیگا کہ اللہ تعالیٰ نے حسن سوری اور حسن مانوی کی کیسی کیسی عظیم نعمتیں عطاء کی ہیں۔

اس چیز میں جتنا زیادہ غور کیا جائے ۔اتنا ہی زیادہ اللہ کی عظمت اور قدرت کی معرفت حاصل ہوجائیگی ۔ اس عظیم نعمت کو اچھی طرح سے سمجھ جائیگا ۔ انسان اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں سب سے زیادہ حسین ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں