پیار ےنبی ﷺ کی وارننگ سن لیں جومرد بازوں پر کڑایا پھر دھاگہ پہنتے ہیں

آج اکثر لوگوں نوجوانوں کی کلائی پر کالا دھاگا یا پیتل کا کڑا نظر آتا ہے ۔ بعض کے ہاتھوں پر بریسلٹ ہوتا ہے ۔ جو لوہے یا پیتل کا ہوتا ہے ۔ان میں سے اکثر سے وجہ پوچھی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ بیماریوں سے حفاظت کیلئے دم کروایا ہوا ہے ۔ ان میں س ےبعض شوق کیوجہ سے بریسلٹ پہنتے ہیں۔

اس بارے میں آپﷺ کا کیا فرمان ہے اور سائنس نے اس بارے میں کیا انکشاف کیا ہے۔کتنے نقصان کی بات بندہ اللہ کے علاوہ کسی او رچیز کو شفاء کا باعث سمجھے ۔یہ اعتقاد رکھے کہ اس کی حفاظت ایک دھاگہ یا ایک کڑا پہننے سے ہوگی حالانکہ قرآن پاک میں واضح ارشاد ہے جب میں بیمار پڑتا ہوں وہی مجھے شفاء بخشتا ہے ۔

اس آیت میں شفاء کی نسبت تو اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی گئی ہے مگربیمار ی کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی گئی ۔ کیونکہ نعمتیں جتنی بندے کو ملتی ہیں وہ سب اللہ کے فضل سے ملتی ہیں جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی زیادہ تر اس کے اپنے اعمال کیوجہ سے پہنچتی ہے ۔اس بات میں شک کرنا کفر ہے کہ کوئی یقین کرے کہ شفاء اللہ کے علاوہ کوئی دینے والا البتہ علاج کرانے کی ممانعت نہیں ہے

۔لیکن یاد رہے کہ علاج کرانے میں بھی ہمیں اللہ کے حکم اور نبی ﷺ کے طریقے کو دیکھنا پڑے گا کہ اللہ نے شفاء حاصل کرنے کیلئے کیا فرمایا او رآپﷺ نے کیا طریقہ عطاء فرمایا۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے ہم حفاظت اور شفاء کے نام پر اپنے یقین کو فاسد کررہے ہیں

اور جعلی پیروں اور تعویز گنڈوں والوں کے ہتھے چڑ ھ جاتے ہیں۔ بحثیت مسلمان یہ ہمارا کامل یقین ہے کہ اللہ کے سوا نہ تو کوئی حفاظت کرنے والا ہے نہ شفاء دینے والا ہے۔اگر ساری دنیا کے ماہرین ایک طرف ہوجائیں اور کسی مریض کو شفاء دینا چاہیں تو وہ اس کو شفاء نہیں دے سکتے جب تک اللہ تعالیٰ اس مریض کو شفاء نہ دے اور اسی طاقت سے ساری دنیا کی طاقتیں اکٹھی ہوجائیں

اور کسی شخص کو بیما ر کرنا چاہیں تو وہ اس شخص کو بیمار نہیں کرسکتیں۔ اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو اس طرح فضول ہتھکنڈوں سے دور رکھیں اور یقین کو فاسد ہونے سے بچائیں۔ اس بارے میں آپﷺ کی حدیث بتاتے ہیں۔

حضرت عمران بن حسین ؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ایک شخص کے ہاتھ پیتل کا کڑا دیکھا اور فرمایا تجھ پر افسوس ہے یہ کیا ہے اس شخص نے کہا میں نے بیماری کے علاج کیوجہ سے یہ پہنا ہوا یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا اس سے تیری بیماری میں اضافہ ہوگا اس کو اتاردے کیونکہ اگر اس حالت میں تجھے موت آگئی تو کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگا ۔

یہ بات بتاتے چلیں کہ پیتل کے کڑوں کے بارے میں جدید تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ اس سے انسانی صحت پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں پیتل کے زیورات حساس جلد کے اوپر خارش داغ دھبوں اور الرجی کا باعث بنتے ہیں۔ پیتل اپنے اند ر بہت سے زہریلے اثرات لیے ہوئے ہیں جس کے پہننے سے دماغ کے اوپر اور جسم کے اعضاء کے بافتوں کے اوپر بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔

آج کی سائنس جتنی بھی تحقیق کرتی ہے اس کی کڑی کہیں نہ کہیں قرآن وحدیث سے جا ملتی ہے جن باتوں کا سائنس آج انکشاف کررہی ہے اس بارے میں آپﷺ نے آج سے چودہ سوسال پہلے بتا دیا ہے ۔ سورۃ فاتحہ کو سورۃ شفاء کہا گیا ہے آپﷺ نے تاکید فرمائی ہے کہ اپنے بیماروں پر سورۃ فاتحہ پڑھا کرو ۔ جب بھی ہم بیمار ہوں سورۃ فاتحہ پڑھ کر اپنے اور اپنے بیماروں پر دم کریں اور اللہ سے ہی شفاء طلب کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں