اپنی جوان پڑوسن سے محبت کربیٹھا تھا رات اس نے ہمت کی اور آدھی رات کو زینب

گندم کی سنہری بالیوں سی سنہری رنگت والی لڑکی آج پھر منجو کے خواب میں آ ٹپکی اور آج پھر وہ پریشاں صورت ، آنکھوں میں آدھی نیند بھرے اٹھ کے اپنے خواب کو سوچنے بیٹھ گیا عجیب ہی معاملہ درپیش تھا اسے ۔

کتنے دنوں سے وہ خود کو ایک بیوہ کے سحر سے نکالنے میں ناکام ہو رہا تھا ۔بارہا سر کو جھٹکتا ، خیال تبدیل کرنے کی بھرپور سعی کرتا ، مگر بے سود ۔ زینب پھر سے کوئی روزن کھُلا پا کر ذہن کے دریچوں میں گھُس آتی ۔ خیالات کے بالا خانوں میں آنچل لہراتی ، منجو کی دھڑکنیں اتھل پتھل کرتی رہتی ۔

اب تو دماغ کے ساتھ دل کی ریاست پر بھی زینب نے زبردستی اپنی راجدھانی جما لی تھی ۔ گویا منجو کے دل و دماغ کی وہی اکلوتی وارث ہو ۔منجو خود کو سمجھاتا، کوستا اور ملامت کرتا کہ اب توقبر کی طرف رُخ کیے بیٹھے ہو ،

جب وقت تھا تب تو چراغوں میں تیل نہ تھا تو اب کیا سُوجھی تجھے عشق لڑانے کی دنیا ہنسے گی تجھ پر ، محلے میں کسی کو بھنک بھی پڑ گٸی تو کتنا کوسیں گے ،اندھے کو دنیا دیکھنے کیلیے دو آنکھیں درکار ہوتی ہیں اور بیناٶں کو بتنگڑ بنانے کیلیے صرف ایک بات ۔ کوٸی کنارہ ملا نہیں کہ مخلوق کے ہاتھ ٹھٹھا لگانے کو شُغل آگیا منجو کی اپنے دل و دماغ سے یہ لڑائی پچھلے ایک ہفتے سے جاری تھی ۔

دن بھر خود سے لڑتا ، اپنی کیفیات پر قابو پاتا ، اپنی بے مہار سوچوں کے دھارے میں بہتا رہتا۔مگر شام پڑتے ہی خود پہ لگائے گئے سارے پہرے توڑ کر اُس کے قدم زینب کے کوچے کی اُور اُٹھ جاتے ۔ کوئی پہر وہ زینب کی صرف ایک جھلک دیکھنے کو یہاں وہاں ٹہلتا حیلوں بہانوں سے گزار دیتا

۔ایسا ہرگز نہ تھا کہ کمزور وجود اور درمیانے قد کا مالک بوڑھا منجو کوٸی رنگین مزاج شخص رہا تھا ۔جوانی کے دورِ قیامت میں بھی اُس کی طبیعت میں رومانیت مفقود تھی بلکہ اُس نے تو اپنے شباب میں بھی ایسی کوئی کہانی نہ چھوڑی تھی جو منجو کا نام زبان زدِ عام لانے کا باعث بنتی ۔ وہ تو اس قدر سادہ اور کم گو طبیعت کا مالک تھا

کہ اپنا حق اور حصہ طلب کرنے سے پہلے بھی سو بار سوچا کرتا ۔پیدا ہوا تو باپ نے بڑے چاؤ سے اُس کا نام منظور احمد رکھا۔ مگر ماں پیدائشی توتلی تھی سو اُن کی زبان منظور سے آشنا نہ ہو سکی ۔ منظور پہلے اپنی ماں اور پھر رفتہ رفتہ سب کیلیے منجور بن گیا اور کچھ سالوں بعد منجور بھی مختصر ہو کے منجو بچ گیا ۔

گھر کی پہلی اور اکلوتی نرینہ اولاد ہونے کے ناطے منجو کے حصے میں والدین کی طرف سے بے پناہ محبت و اپنائیت آئی ۔ منجو کے بعد دو دو سال کے وقفوں سے تین بیٹیاں ہوئیں ۔ ابھی دسواں درجہ بھی پاس نہ کیا تھا ماں باپ اپنی تینوں بیٹیوں کا بوجھ اور ذمہ داری منجو کے کمزور کندھوں پر ڈال کے ملک عدم کے راہی ہو گئیں۔

والدین کے گزر جانے کے بعد منجو نے اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر اور چار پیسے جوڑ کر محلے میں چھوٹی سی دکان ڈال دی ۔ دن بھر دکان داری کرتا اور رات گئے در بند کر کے گھر لوٹتا ۔ تھکن اتنی زیادہ ہوتی کہ بہنوں سے بھی نہ بانٹ پاتا اور چارپاٸی پر کمر ٹکاتے ہی سُدھ بُدھ جاتی۔ اگلے دن کا سورج ابھرنے سے بھی قبل منجو پھر اپنی چھوٹی سی دکان پر بیٹھا ہوتا ۔

زندگی یونہی گھن چکر بنی رہی اور جانے کتنے سال دبے پاؤں بیچ میں سے کھسک گئے ۔گھر میں پیچھے بیٹھی تین جوان اور کنواری بہنوں کا پاس تھا یا آخری درجوں کو پہنچی ہوئی منجو کی شرافت کہ اپنی گلی سے گزرتے ہوئے بھی نگاہیں زمین پر رکھ کے چلتا کجا کہ کسی مٹیار سے عشق لڑاتا ۔

کسی غیر عورت پر پڑ جانے والی بے اختیاری نظر کے علاوہ دوسری نگاہ ڈالنا بھی حرام سمجھتا کہ گھر میں اپنی بھی تین جوان بہنیں بیٹھی ہیں ۔ محلے بھر میں منجو کی شرافت ضرب المثل تھی اور مائیں اپنے جوان بیٹوں کو منجو کی مثال دے کر شرافت کے سبق پڑھاتیں ۔کبھی خود کو سنوارنے کی تمنا نہ رہی ۔ کبھی بالوں کو تیل لگایا اور نہ ہی کبھی کسی نے منجو کو خوشبو لگا کر گھر سے باہر نکلتے دیکھا ۔

کیٹاگری میں : story

اپنا تبصرہ بھیجیں