کیا آپ کو خیال سے یا ویسے ہی منی کے قطرے آتے ہیں؟

اگر ہم نے ذہنی طور کچھ دیکھا کچھ محسوس کیا ہمارے اندر ش ہ و ت آئے گی تو جب ش ہ و ت آتی ہے تو ٹیسٹیزمیں کچھ منی باہر آجاتی ہے اب وہ وزنی ہوتی ہے اور وہ جس نالی میں رہتی ہے اس میں آکر رُک جاتی ہے ہم جب پیشاب کرتے تو ہماری پوزیشن ایسی ہوتی ہے یعنی ہم اپنے پائوں کو پیٹ کیساتھ لگاکر بیٹھے ہوتے ہیں تو جب نیچے زمین فورس آف گریوٹی ہوتی ہے وہ ہر چیز نیچے کو کھینچتی ہورہی ہوتی ہے تو وہ اب جو ڈروپس ہوتے وہ آگے آجاتے ہیں جب اُٹھتے بیٹھتے ہیں چلتے ہیں مثلاً نماز میں وضو کیا رکوع میں گئے سجدے میں گئے اٹھے ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارے اندر سے کوئی چیز نکل رہی یہ وہی ڈروپس ہیں۔

جو ہمارے ہی تھے اور جس کو ایک مہینہ ہم کتنی بار نکال سکتے تھے 16مرتبہ وہ پوری نکل سکتی تھی بتاؤ نکلنے سے کمزوری آنی تھی کمر میں درد ہونا تھا جس کے پاس چیز ہوتی ہے وہی دیتا ہے نا۔ اور جس بیچارے کے پاس ہے ہی نہیں بیماری تو اس کو ہوئی جس کے پاس ہے ہی نہیں،ادھر ڈاکٹروں نے حکیموں نے آپ لوگوں کا دماغ خراب کر دیا ۔یہ پیشاب کے بعد اگر منی کے قطرے آئیں وہ منی نہیں ہوتی اس مذی کا نام دیا گیا ہے تو نے وضو کے بعد صرف چھینٹا لگانا ہے اور تن طریقے نوٹ کر لیجئے زندگی میں کبھی یہ مسئلہ ہی نہیں ہوگا پہلا طریقہ جب استنجے سے فارغ ہوں۔

تو اپنے اعضائے تناسل کو دو انگلیوں میں لے کر جھاڑو،اچھی طرح نچوڑ لیجئے تا کہ کوئی قطرہ اس میں رہ نہ جائے دوسرے نمبر پر ایک دفعہ اٹھو پھر بیٹھوں اسی طرح دس دفعہ اٹھو اور بیٹھو جب آپ دس دفعہ اٹھو گے اور بیٹھو گے تو کوئی قطرہ آپ کا رہے گا؟ ایک دفعہ پھر دوبار ہ سے یورین پاس کرو وہ نکل جائے گی اگر ایسے بھی نہیں نکلا تو پھر اپنے پیر کو اٹھاؤ اور نیچے مارو اسی طرح دس بار اٹھا اٹھا کر ماریئے جب ہم اس کو دس بار ماریں گے تو سارے قطرے ختم ہوجائیں گے ۔ یہ ساری کی ساری مصیبتیں دور ہوجائیں گی اور ہر نوجوان اللہ کی قسم اس کے لئے دوائیاں کھا کھا کر اپنا بیڑہ غرق کر دیتا ہے ۔پہلے جھاڑنا ہے پھر اٹھنا اور بیٹھنا ہے اور پھر اپنی ایڑی کو دس بار زور سے نیچے مار نا ہے اللہ کی قسم زندگی میں کبھی قطرے نہیں آئیں گے۔شکریہ

کیٹاگری میں : health

اپنا تبصرہ بھیجیں