کیا مرغی کا گوشت کھانا حرام ہے ؟

سوال کیا گیا ہے کہ مرغیوں کو جو فیڈ کھلائی جاتی ہے اس کے بارے میں سناہے کہ اس میں حرام اشیاء شامل ہوتی ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟میں نے بھی سناہے اس میں حرام چیزیں شامل نہیں ہوتی ۔اب دو سنی سنائی برابر ہوگئی۔مومن سنی سنائی بات کے پیچھے نہیں چلتا ہم نے ایک اصول پڑھا تھا جَلَّالہ یہ کسے کہتے ہیں

ایسا جانور جو اپنی خوراک نہیں گندگی کو خوراک بناتا ہے ایسا جانور دودھ دینے والا ہی کیوں نہ ہو گائے بھینس ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کو تین دن باندھا جائے گا اس کا دودھ نہیں پیا جائے گا نہ اس کا گوشت پیا جائے گا تین دن باندھنے کے بعد جب اس کو چارہ کھلائیں گے

اس کے بعد اس کا دودھ بھی پیا جاسکتا ہے اور اسی طرح یہ مرغی ہے یا کوئی اور چیز لیکن جلالہ کا جو صحیح مفہوم محدثین نے پیش کیا ہے کہ وہ اس انداز سے کتنا زیادہ احتمال کرے کہ اس کے گوشت میں سمیل آنی شروع ہوجائے ایسا گوشت ایسا جانور کے گوشت و دودھ کو نہیں استعمال کیاجائے گا

دوسری بات میں تونہیں کہوں گالیکن حدیث نے کہہ دیا ہے کوئی ناراض ہو کہ غصے میں آکے یہ نہ کہہ دے حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ سنی سنائی بات پر عمل کرے اگر واقعتا ایسی چیز ہے تو ہمیں اس کے بارے میں احتیاط اختیار کرنی چاہئے اگر ایسی چیز نہیں ہے

تو سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے پھیلانا یہ مومن کا وطیرہ نہیں ہے ۔چکن آج امیر غریب ، چھوٹے بڑے سب کی پسندیدہ غذا ہے۔دو ڈھائی عشروں میں ہی اس کا رواج بڑھا ہے۔ اصل میں یہ چوزے یعنی چکس ہیں ۔ اس لئے ان کے گوشت کو چکن کہا جاتا ہے۔ مرغی تو کُک یا ہین ہے۔اس چکن کی افزائش پہ اگر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک فارمی چوزہ صرف ڈیڑھ دو ماہ میں مکمل مرغی کے سائز کا ہو جاتا ہے۔آخر کیوں ؟

جبکہ دیسی چوزہ تو چھ ماہ میں مرغی جیسا ہوتا ہے مکمل مرغی تو وہ سال میں بنتا ہے۔اس فارمی چوزے کو جو غذا دی جاتی ہے اس میں ایسے ہارمونز سٹیراؤڈز اور کیمیکل ڈالے جاتے ہیں جو ان کی افزائش کو غیر فطری بڑھا دیتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی فیڈ میں مختلف جانوروں کا خون جو مذبح خانوں سے مل جاتا ہے ، جانوروں کی آلائش ، مردار جانوروں کا گوشت اس فیڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک نجی ٹی وی چینل نے لاہور کے مذبح خانوں پر ایک دستاویزی فلم پیش کی تھی جس میں ان فارمی مرغیوں کی خوراک کے بارے میں بھی دکھایا گیا تھا۔اس خوراک کا بیشتر حصہ خون ،آنتیں اور دیکر فضلات پر مشتمل ہوتا ہے۔یہ فیڈ کھا کر یہ نومولود چوزے 6 سے 8 ہفتوں میں ہمارے پیٹ میں پہنچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ یہ چوزے بڑے ہونے کے باوجود بھاگنے اڑنے سے قاصر ہوتے ہیں۔کیونکہ ان کا جسم پھولا اور سوجا ہوا ہوتا ہے۔ جو کہ اسٹئرائڈز کا کمال ہوتا ہے۔ اسطرح کے اسٹئرائڈز باڈی بلڈر اور پہلوان استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آخری عمر بستر پہ گذرتی ہاس فارمی مرغی کے مقابلے میں دیسی چوزہ جوکہ 6۔8 مہینوں تک چوزہ ہی رہتا ہے کو پکڑنا چاہیں تو بڑے آدمی کو بھی دانتوں پسینہ آجاتا ہے

جبکہ فارمی مرغی کو ایک بچہ بھی آسانی سے پکڑ لیتا ہے۔یہ فارمی چکن ہمارے معاشرے میں “ ہائی پروٹین ، کولیسٹرول فری گوشت ” کے نام سے رواج پاگیا ہے۔ حتٰی کہ ڈاکٹر حضرات بھی سارے گوشت بند کرکے فارمی چکن ہی تجویز کرتے ہیں۔ جوکہ خود بیماریوں کی وجہ ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ آمین

کیٹاگری میں : health

اپنا تبصرہ بھیجیں