مسلمان عورتیں پوشیدہ اعضاء پر پانی کیوں ڈالتی ہیں؟

موجودہ دور میں جہاں اسلامی تعلیمات کو ہر جانب سے یلغار کا سامنا ہے اسلام پر اعتراض کرنے والوں میں جہاں جدید تعلیم یافتہ افراد حتی کہ میڈیا کا بھی سہارا ہے تو بدقسمتی سے وہیں اسلام کا دفاع کرنے والوں کے پاس یہ سہولیات ذرا کم ہیں ہیں اس تناظر میں اگر یہ کہاجائے کہ موجودہ دور میں اسلام کا بہترین دفاع اور اسلام کی تبلیغ و تشہیر میں جو کردار ڈاکٹر ذاکر نائیک نے پیش کیا ہے وہ مثالی اور قابل تحسین ہے ۔ڈاکٹر ذاکر نائیک ایک ایسے عالم دین ہیں جو اسلام کے حوالے سے بڑی ماڈرن اپروچ رکھتے ہیں اور دین محمدی ﷺ پر اعتراض اٹھانے والوں کو انتہائی مدلل اور بہترین جواب دے کر خاموش کردیتے ہیں

ان کے ذخیرہ علم کی طرح ان کی تبلیغ کا طریقہ کار بھی منفرد ہے وہ انگریزی اردو اور ہندی میں لیکچرز کا اہتمام کرتے ہیں اور ہر لیکچر کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن رکھاجاتا ہے جس میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیرمسلم ایشینز یورپینز ہرقوم سے تعلق رکھنے والے لوگ آتے ہیں اور بلا جھجھک ڈاکٹر صاحب کے سامنے اپنے سوالات رکھتے ہیں ان سیشنز میں بارہا ایسا موقع آتا ہے کہ جب کوئی سوال کرنے والا اپنے سوال کا شافی جواب پاکر فورا اسلام قبول کرلیتا ہے ۔اس تحریر میں ایک ایسا ہی خوبصورت واقعہ شیئر کیاجارہا ہے کہ جس میں ایک افریقی خاتون نے جب ڈاکٹر ذاکر نائیک سے یہ پوچھا کہ مسلمان عورتیں اپنا سر اور سینہ کیوں ڈھانپتی ہیں اور رفع حاجت کے بعد اپنے پوشیدہ حصوں کی طہارت کے لئے پانی کیوں استعمال کرتی ہیں

ان غیر معمولی سوالوں کا ڈاکٹر ذاکرنائیک نے کیا خوب جواب دیا کہ وہ عورت وہیں پر مسلمان ہوگئی۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لئے دونوں سوالات اتنے غیر متوقع اور عجیب تھے کہ انہوں نے مائیک پر آکر سب سے پہلے یہ کہا کہ اگر میں نے ٹھیک سنا ہے تو آپ نے یہ دو سوال کئے ہیں ڈاکٹر ذاکر نے اس خاتون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری بہن پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ صرف مسلمان عورتیں ہی نہیں بلکہ مسلمان مرد یعنی ہم سب یہ عمل سرانجام دیتے ہیں کیونکہ ہم لوگ ناپاک نہیں رہ سکتے اور ہم صفائی کا بے حد خیال رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ واش روم جانے کے بعد پانی کا استعمال اس لئے کیاجاتا ہے کہ جو نجاست کسی حد تک جسم پر لگی رہ جاتی ہے اسے دھو کر صاف کرلیاجائے اور اب تو یہ بات میڈیکل سائنسز سے بھی ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے جسم سے نکلنے والے یہ فاضل مادے جسم پر لگے رہنے سے اپنے ماحول کے اردگرد رہنے سے دوسرے لوگوں کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں

انہوں نے کہا کہ جسم سے نکلنے والے یہ مادے نہ صرف بیماریوں کا موجب بنتے ہیں بلکہ ناپاک بھی ہوتے ہیں اس لئے دین اسلام میں ان کی صفائی کی خاص تاکید کی گئی ہے نہ صرف تاکید کی گئی ہے بلکہ اس پورے عمل کا طریقہ کار بھی واضح کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ میری بہن اب ہم آ پ کے دوسرے سوال کی بات کرتے ہیں کہ مسلمان خواتین سر اور اپنا سینہ کیوں ڈھانپتی ہیں خواتین کو حجاب کرنے کا حکم قرآن پاک میں دیا گیا ہے اور جہاں پر خواتین کو حجاب کے بارے میں تاکید کی گئی ہے وہیں مردوں کے حجاب کے متعلق بھی فرما ن جاری کیا گیا قرآن پاک کی سورہ النور کی آیت نمبر 30 میں ارشاد ربانی ہے اور جب بھی تم میں سے کوئی صاحب ایمان کسی نامحرم عورت کو دیکھے تو اسے دیکھتے وقت اپنی نگاہیں جھکالو اسی سورت کی اگلی آیت میں خواتین کو خطاب کرتے ہوئے قرآن مجید میں کہا گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں