نماز سے عورتوں کے پوشیدہ امراض کا خاتمہ اولاد کا نہ ہونا ماہواری کے تمام مسائل ختم

جدید سائنس نے یہ ثابت کیا ہے نما ز میں امام تلاوت کرتا ہے اور مقوی بیان کیساتھ اور توجہ کیساتھ سنتے ہیں اس پڑھنے اور سننے کے عمل کے درمیان ایک خاص قسم کی لہریں پیدا ہوتی ہیں یہ لہریں دونوں کے درمیان انوارات منتقل کرتی ہیں ۔ اگر ان میں ایمان کی برقی قوت تیز اور زیادہ ہوتی ہے ۔ تو وہ مکتبیوں میں منتقل ہوتی ہے ۔

اگر برقی قوت مکتبیوں میں زیادہ قوی ہوتی ہے تو امام میں منتقل ہوتی ہے ۔ ماہر روحانیات کہتے ہیں ہر لفظ ایک یونٹ ہے اور اس سے تیز روشنی نکلتی ہے جومثبت اور منفی ہوتی ہے ۔ قرآن سے نکلا ہوا لفظ مثبت ہوتا ہے اور مکتبیوں پر یہ جب مثبت اثرات پڑیں گے ۔ تو ان کے اندربے شمار امراض ختم ہونگے ۔ خ و ن کے سرخ زرات تحقیق کے مطابق غیر مرعی اثرات سے ٹوٹتے رہتے ہیں

اکثر اس کے ٹوٹنے کے عوامل بڑھ جاتے ہیں نماز میں تلاوت کی لہریں اس مرض سے بہت محفوظ رکھتی ہیں ۔ نفسیاتی امراض ہر زمانہ میں انسان کیلئے وبال جان ہے ان سے بچاؤ صرف اور صرف یہی ہے کہ ایسی لہروں کو اپنی اندر منتقل کیا جائے حتیٰ کہ ڈپریشن بے چینی جیسے امراض نماز سے ختم ہوجاتے ہیں اگر زیادہ دھیان ہو تو ان امراض کا خود بخود خاتمہ ہوجاتا ہے ۔

اسی لیے خواتین کی بہت سارے نسوانی مسائل اور بہت پوشیدہ امراض نماز سے ختم ہوجاتے ہیں۔ میڈیکل سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ عورتوں کو شرعی حکم ہے کہ کنڈلیوں کو نہ پھیلائیں بلکہ کہنیاں بدن کیساتھ لگی رہیں ۔ ایسا کرنے سے عورتوں کے اعصاب دودھ پیدا کرنے والے غدود سینے کے اعصاب اور حسن نسواں پر بہت گہرے اثرات پڑتے ہیں۔ عورتوں کے بہت سارے نسوانی امراض جن میں لیکوریا ماہواری کی بے قاعدگی اس کے علاوہ عورتوں کے بہت سارے مسائل صرف شرعی طریقے سے نماز پڑھنے سے دور ہوجاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں