نماز توبہ کا طریقہ دو رکعات نماز توبہ اس طرح ادا کریں

آج میں نمازِ توبہ ادا کرنے کا طریقہ آپ کو بتانے جا رہے ہیں یاد رکھیں خطا انسانی فطرت میں رکھ دی گئی ہے انبیاء کرام ؑ کےسوا کوئی بھی انسان موجود نہیں ہے اس دنیا میں جو خطا سے پاک ہو۔ ہر انسان اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی خطا ضرور کر تا ہے کہنے کا میرا مقصد ہے

کہ ہر انسان خطا کا پتلا ہے۔ انسان اپنی زندگی میں بہت سے خطائیں کرتا ہے مگر اپنی خطاؤں پر اپنی غلطیوں پر شرمسار ہو کر اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ کر لینی چاہیے تاکہ اللہ پاک کی ذات ہم سے راضی ہو جائے اور ہم سے ہرطرح کے عذاب سے ہمیں بچالے ورنہ اللہ کا عذاب بہت ہی زیادہ خطر نا ک ہے۔

میرا کہنے کا یہ مقصد ہے کہ انسان خطا تو کر تا ہی ہے لیکن اس خطا پر ڈٹے رہنا یہ مناسب بات نہیں ہے اگر اس گناہ پر اس خطا پر ڈٹے رہیں گے تو اس سے اللہ مزید ناراض ہو ں گے اور کہیں گے کہ یہ انسان عجیب ہے توبہ کرنے کی بجائے مزید گناہ پہ گناہ کیے جا رہا ہے تو یہ بات بہت ہی غلط ہے

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گناہوں سے شرمندہ ہو کر اپنے رب کے حضور اپنے گناہوں کی توبہ مانگ لیں اللہ پاک کی ذات بہت ہی زیادہ رحیم ہے کریم اور بخشنے والی ہے وہ بخش کر ہی راضی ہے نہ کہ عذاب دے کر۔ یہ پیارے اللہ کریم کا کرم ہے اس نے بندے کو توبہ کا خوبصورت عمل سکھا یا جو گناہوں کو دھو دیتا ہے ۔

اللہ کریم کی شان ِ کریمی اور رحیمی دیکھیں کہ جب بندہ کسی نیکی کا صرف ارادہ کرتا ہے تو ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے پھر جب اس نیکی پر عمل کرے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور جب بندہ گناہ کر بیٹھتا ہے اور گناہ پر شر مندگی آجاتی ہے اور گریا زاری کے بعد

اللہ کریم کے ہاں وہ توبہ کر تا ہے تو اللہ کو ایسا بندہ بہت ہی زیادہ پسند ہے جو گناہ کر بیٹھا اور پھر گناہ کے بعد سچی توبہ کی اس کو توفیق نصیب ہو گئی کیوں کہ گناہ کرنے والا جب گناہ کر بیٹھتا ہے تو اللہ کی بارگاہ میں دعا مانگتا ہے اللہ کریم تو اعلان فر ما تا ہے۔

حدیث ِ قدسی کہ تم اس قدر گناہ کرو کہ وہ آسما ن تک پہنچ جائیں تو پھر تم توبہ کر و تو اللہ کریم تمہیں معاف فر ما دے گا۔ کیونکہ وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فر ما تا ہے اور ان کی غلطیوں سے درگزر فر ما تا ہے کیو نکہ جب بندہ توبہ کر لیتا ہے توبہ ۔کرنے والا ایسا ہے کہ جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ اگر وہ اپنی توبہ پر قائم رہے تو نہا یت ہی کرم نوازی کا معاملہ کیا جاتا ہے اس بندے کے ساتھ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں