پیارے نبیؐ کا فرمان ضرورسن لیں کسی کو بددعا دینا کیسا ہے انسان برباد کیسے ہوتا ہے؟

بددعا کے بارے ہم آج آپ کو بتانے والے ہیں بددعا نہیں دینی چاہیے بددعا سے بچنا بھی چاہیے ۔حضور نبی اکرمﷺ کسی صورت بددعا نہیں دیتے تھے آپ کو جس طرح ستایا گیا اور کسی کو نہیں ستا یا گیا۔ آپﷺ کی بیٹیوں کو طلاقیں دیں گے آپﷺ کے دندان مبارک شہید کی گئیں۔ آپ ﷺ پر کوڑا کرکٹ پھینکا گیا۔ آپﷺ کو ہجرت پر مجبور کیا گیا ۔آپﷺ کو بیت اللہ میں نماز سے روکا گیا ۔طائف کا واقعہ تو سب نے سنا ہوگا۔ نبوت مل جانے کے بعد آپﷺ مکہ مکرمہ میں تبلیغ فرماتے رہے اور قوم کی ہدایت اور اصلاح کی کوشش فرماتے رہے لیکن مکہ والے سننے والے نہ تھے ۔ گنتی کے چند لوگوں کے سوا کوئی مسلمان نہ ہوا۔آپﷺ چاہتے تھے مزید مسلمان ہوں مکہ کے سردار مسلمان ہوں آپﷺ انہیں دعوت دیتے لوگو ں کے گھروں تک جاتے ۔

بارش کے موسم رات کے وقت ابوجہل کے دروازے دستک دیتے اور کلمہ کی تلکین کرتے ۔ لیکن لوگ آپ ﷺ کی نہ سنتے اسی جذبے کے تحت آپﷺ طائف گئے آپ ﷺ کا خیال تھا کہ قبیلہ بنوثقیف بڑا قبیلہ ہے ۔ تو مسلمانوں کو ان تکالیف سے نجات مل جائیگی اور یہ دعوت کو پھیلنے کا سبب بن جائیں گے ۔ اسی نیت کو سامنے رکھتے ہوئے آپﷺ طائف چلے گئے ۔ وہاں قبیلہ کے تین بڑے سرداروں سے آپﷺ نے گفتگو فرمائی اور ان کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلایا انہوں نے آپﷺ کا مزاق اُڑایا اور عرب کی روایات کو توڑتے رسول اللہﷺ کیساتھ بدسلوکی والا معاملہ کیا انہوں نے یہ بھی گنوارہ نہ کیا کہ آپﷺ وہاں پر قیام فرما لیں ۔ آپﷺ نے ان کو شریف سمجھ کر بات کی تھی ۔ مگر وہ تہذیب سے عاری نکلے ۔ انہوں نے رسول اللہﷺ پر تنزیہ جملے کسے اور کئی طرح کے سوال اُٹھائے۔

ایک نے کہا آپ کو ہی اللہ نے نبی بناکر کیوں بھیجا۔ دوسرا بولا اللہ کو تمہارے سوا کوئی اور ملتا ہی نہیں جس کو رسول بنا کر بھیجتے ۔ تیسرے نے کہا میں تجھ سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا اس لیے کہ تو واقعی نبی ہے تو تیری بات سے انکار کردینا مصیبت سے خالی نہیں۔ اور اگر جھوٹ ہے تومیں ایسے شخص سے بات نہیں کرنا چاہتا ۔ ان کے اس جواب کے بعد آپﷺ نے نے اور لوگوں سے بات کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ آپﷺ نے دیگر لوگوں کو دعوت دینے کی ٹھانی ۔ تو طائف کے سرداروں نے آپﷺ سے مقابلے کی ٹھان لی ۔ انہوں نے آپﷺ کو شہر سے نکل جانے کا کہا۔ آپﷺ جب واپس لوٹنے لگے تو ان لوگوں نے شہر کے لڑکوں کو پیچھے لگا دیا کہ وہ آپﷺ کا مذاق اُڑائیں۔ تالیاں پیٹیں پتھر ماریں۔ انہوں نےحضوراکرمﷺ کو پتھرمارے جس سے آپﷺ کے دونوں جوتے لہوسے تر ہوگئے ۔آپﷺ اسی حالت میں واپس لوٹے تو ایک باغ میں رُکے ۔

جہاں حضرت جبرائیلؑ نے آکر آپﷺ کی خدمت میں سلام عرض کیا اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی وہ گفتگو جو آپ سے ہوئی وہ سنی اور ان کے جوابات سنے میں اپنے ساتھ ایک فرشتہ لایا ہوں جس کی پہاڑوں پر خدمت ہے ۔ اسے اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے پاس بھیجا ہے اور آپﷺ جو چاہیں اس کو حکم دیں آپﷺ کے حکم کی تعمیل ہوگی ۔ اس کے بعد اُس فرشتے نے سلام کیا او ر عرض کیا یارسول اللہﷺ اگر آپ حکم دیں تو دونوں پہاڑو ں کو ملا دوں جس سے یہ سب لوگ درمیان میں کچل جائیں گے ۔ جس طرح آپ حکم دیں اسی طرح انہیں عذاب ملے گا۔ تصور کریں اگر ہمارے ساتھ اس طرح ہوتا تو ہمارا ردعمل کیا ہوتا۔ قربان آپﷺ پر جنہوں نے صبر کا مظاہرہ کیا۔ آپﷺ نے فرمایا یہ مجھے نہیں جانتے کہ میں کون ہوں اگر یہ مسلمان نہیں ہوئے توان کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کی پرستش کریں اور اللہ کی عبادت کریں گے ۔ میں ان کو عذاب میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ آپﷺ نے ستم سہہ کر بھی عذاب کا حکم نہیں دیا۔ ہمیں کوئی ستم دے تو ہمیں بھی یوں ہی کرنا چاہیے ۔
آپﷺ کا فرمان ہے :جو توڑے اس سے جوڑو جو ظلم کرے اسے معاف کرو جو روکے اُسے عطاء کرو ۔پھرآپﷺ نے مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ ہو۔لوگوں کو چاہیے وہ بھی بددعا سے بچیں بددعا انسان کی زندگی تباہ کردیتی ہے ۔حضرت معاذ بن جبل ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے وسیت کرتے ہوئے فرمایا معاذ مظلوموں کی دعا سے بچوکیونکہ اللہ تعالیٰ اور مظلوم کے درمیان کوئی پردہ نہیں مظلوم کی بددعا عرش کو چیرتی ہوئی اللہ تعالیٰ کے پاس جاتی ہے ۔دوسرا ماں باپ کی بددعا سے بچنا چاہیے ماں باپ کی دعا اور بددعا دونوں لگتی ہے ۔آپﷺ نے فرمایا بددعا دینے والا شخص نہ کسی کا گواہ بن سکے گا اور نہ کسی کی سفارش کرسکے گا۔ ہم وقتی بددعا دے کر کسی کی سفارش اور گواہی سے کیوں محروم ہونا چاہتے ہیں۔ رسول اکرمﷺ نے نہ بُری بات کرتے تھے اور نہ بددعا دیتے تھے۔یارسول اللہﷺ مشرکین کے خلاف بددعا کریں تو آپﷺ نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والا نہیں بنا کر بھیجا گیا بلکہ رحمت العالمین بنا کر بھیجا گیا ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں آپﷺ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں