حضورپاکﷺ باہر سے تشریف لائے سیدہ عائشہ ؓ کو پیالہ سے پانی پیتے دیکھا

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ رحمت دو عالم ﷺ باہر سے تشریف لائے گھر کے صحن میں سیدہ عائشہ ؓ کو دیکھا کہ پیالہ سے پانی پی رہی ہیں وہیں سے آپﷺ نے ارشاد فرمایا اے حمیرا تھوڑا پانی میرے لیے بھی بچانا غور فرمائیں بیوی امتی ہیں شوہر نبی ہیں ۔ برکتیں نبی کی ذات کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں مگر سبحان اللہ آپﷺ اپنی رفیقہ حیات کے بچے ہوئے پانی کو پینا چاہتے ہیں
جب سیدہ عائشہ ؓ نے کچھ پانی بچا کر خدمت اقدس میں پیش کیا تو نوش فرمانے سے پہلے معلوم کیا اے حمیرا تم نے اس پیالہ کے کس حصے سے لب لگا کر پانی پیا تاکہ میں بھی اس جگہ سے پانی پیوں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں پانی پیتی آپﷺ کو دیتی تو آپﷺ اسی مقام سے نوش فرماتے ۔ اگر خاوند اپنی بیوی کو اس طرح پیاردے اس کے ساتھ اس قسم کا حسن سلوک اور دل جوئی کا معاملہ کرے تو ضرور وہ بھی محبت کا جواب محبت سے دے گی پہلے کوئی ابتداء تو کرے اس لیے کہ عورت کی فطرت میں یہ بات ہے کہ اس کے ساتھ محبت اور نرمی کا معاملہ کیا جائے تو وہ گھر کو جنت بنا دیتی ہے۔ لیکن اگر سختی کا معاملہ کیا جائے تو اس گھر میں کبھی سکون نہیں ہوگا۔
جب حضوراکرمﷺ اس قدرمحبت کا معاملہ فرماتے تو جواباً سیدہ عائشہ ؓ بھی اسی قدرمحبت کا معاملہ کرتیں خود فرماتی ہیں کہ جب حضوراکرمﷺ عشاء کے بعد میری باری میں گھر تشریف لاتے تو میں کبھی فرطِ محبت میں یہ اشعار پڑھتی ۔ مفہوم ایک سورج تو ہمارا ہے اور ایک سورج آسمان کا ہے میرا سورج آسمان کے سورج سے بہتر ہے کیونکہ آسمان کا سورج تو فجر کے بعد طلوع ہوتا ہے اور میرا سورج عشاء کے بعد طلوع ہوتا ہے اور اس کی روشنی عشاء کے بعد بھی باقی رہتی ہے ۔
حضوراکرمﷺ کی پوری زندگی ساری امت اور اس کے ہر فرد کیلئے نمونہ ہے۔ آپﷺ امت کو بتانا چاہتے تھے کہ اہلخانہ کے ساتھ اس طرح حسن سلوک کرنا چاہیے ۔آپﷺ نے خود بھی ایسا کیا اور امت کو بھی اس طرف متوجہ فرمایا ۔ اس شخص کے بارے میں جسے حضوراکرمﷺ بہتر قرار دیں اس سے زیادہ اچھا کون ہوسکتا ہے یہی کیا کم فضیلت کی سند ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اسوائے رسول کریمﷺ پر کامل عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں