وہ مردجو لڑکی بن کر عورتوں کو نہلاتا اور ان کے جسموں کے ساتھ کھیلتا

ایک شخص جس کا نام نسود تھا اس کی آواز اور شکل وصورت بلکل ہی عورتوں جیسی تھی یعنی اگر وہ عورتوں کا لباس پہن لیتا تو ایک حسین وجمیل عورت نظر آتا اپنے نازک بدن کی وجہ سے وہ کوئی بھی مشقت طلب کام نہ کرسکتا تھا اس وجہ سے وہ معاشی مشکلات کا شکار تھا لیکن پیٹ کے دوزخ سے تنگ ہوکر اور خود عورت ظاہر کرکے شاہی محل میں عورتوں کے حمام میں نوکری کرنے لگ گیا اور شاہی محل رہنے والی شہزادیوں کو نہلانے اور ان کا مساج کرنے کا کام سرانجام دینے لگا اس کا حلیہ بھلے ہی کسی دوشیزہ جیسا تھا لیکن حقیقت میں وہ تھا ایک مرد اور مردوں کی طرح ش ہ و ت رکھتا تھا اس لیے شہزادی اور شاہی بیگمات کا مساج کرتے ہوئے خوب نفسانی لذت حاصل کرتا۔

اور اپنے مردانہ جذبات اور ہاتھوں کے لمس سے شہزادیوں کو شدید لذت پہنچاتا صرف چند دن کی ملازمت سے نسود نامی یہ آدمی محل کی عورتوں میں انتہائی مقبول ہوگیا نسود کی دونوں کی طرف سے چاندی تھی ایک طرف تو اسے نرم ونازک شہزادیوں کے جسموں سے کھیلنے اور اپنی نفسانی خواہشات کو تکمیل تک پہنچانے کا موقع ملا دوسرا شاہی محل کام کرنے کی وجہ سے انعام واکرام بھی دیا جاتا ان تمام خواہشوں اور لذتوں کے باوجود نسود کا ضمیر اسے ملامت کرتا اور توبہ استغفار کرکے اسے عمل بد سے روکتا نسود اپنے ضمیر کی آواز پر اپنے گناہوں سے توبہ تو کرلیتا لیکن اسکا ظالم نفس نسود کو اپنی توبہ زیادہ عرصہ قائم نہ رہنے دیتا اور دوبارہ بادشاہ کے محل میں موجود عورتوں کو نہلانے اور ان کا مساج کرنے چلا جاتا۔

ایک دفعہ نسود کے شہر میں انتہائی نیک بزرگ تشریف لائے وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا احوال سنایا اور اپنے گناہوں کے لیے دعا کی درخواست کی اس بزرگ کی دعا میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جلد ہی نسود کو راہ راست پر آجانے کا بہترین موقع فراہم کیا اسی طرح دن گزرتے رہے اور شاہی محل عورت بن کر کام کرتا رہا اور عورتوں سے اپنے مردانہ جسم کو تسکین دیتا رہا ایک دن وہ اپنے اسی کام میں مصروف تھا تو ایک شہزادی کا قیمتی موتی گم ہوگیا جو اس کے دل بہت ہی قریب تھا خوب تلاش کے بعد وہ موتی نہ مل سکا تو شہزادی کے حکم پر محل کے تمام دروازے بند کردیئے گئے اور سپاہیوں کو حکم دیا گیا کہ حمام میں موجود تمام کنیزوں کی مکمل تلاشی لے اسی حکم پر سپاہیوں نے آواز لگائی کہ سب کنیزیں ب رہ ن ہ ہوجائیں خواہ وہ نوجوان ہوں یا پھر بوڑھی نسود نامی آدمی نے جب یہ آواز سنی تو اس پر لرزا تاری ہوگیا کیونکہ وہ تو حقیقت میں عورت کے روپ میں ایک مرد تھا اور کافی عرصے سے محل میں کنیز بن کر زندگی گزار رہا تھا۔

اسے خیال آیا کہ آج تو وہ رسوا ہوجائے گا اور بادشاہ اپنی عزت اور ناموس کا انتقام مجھ سے ضرور لے گا کیونکہ حرم کی عورتوں کو چھونا نہایت ہی سنگین جرم تھا اور اس کام کی سزا پھانسی تھی نسود کاچہرہ اس ڈر کیوجہ سے زرد پرگیا کہ وہ م و ت کو انتہائی قریب سے دیکھ رہا تھا اسے جب کچھ بھی نہ سوجھا تو اس نے اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوکر فریاد کی اور آئندہ پاکیزہ زندگی گزارنے کا عائد کیا جب تمام خادماؤں کی تلاشی ہوچکی تھی تو سپاہیوں نے نسود کو آواز دی اور بے لباس سونے کا حکم دیا نسود یہ حکم سنتے ہی بے ہوش ہوگیا اسے لگا جیسے سب کچھ ختم ہوگیا اور اب اس کا راز سارے شہر میں ایاں ہو جائے گا وہ لوگ جو اس کی عزت کیا کرتے تھے اب وہ اسے سر عام سولی پر لٹکا دیں گے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا کیونکہ اللہ پاک نسود کی توبہ قبول فرما چکے تھے جب اسے ہوش آیا تو سپاہی اسے کہہ رہے تھے۔

کہ شہزادی کا چوری ہوجانے والا موتی واپس مل چکا ہے اس لیے اب اس کی تلاشی کی کوئی ضرورت نہیں نسود نے یہ سنتے ہی اپنے پروردگار کا بہت شکر ادا کیا اور توبہ کرتے ہوئے پاکیزہ زندگی گزارنا شروع کردی اس واقعےکے بادشاہی محل کی بیسیوں خواتین نے نسود کو مساج کرنے اور نہلانے کے کام پر واپس آنے کیلئے طلب کیا لیکن نسود جو کہ توبہ کرچکا تھا اس کام سے معذرت کرلی شاہی خواتین نے نسود کی لاکھ منت سماجت کی اور گزشتہ واقعہ پر شرمندگی کا اظہار بھی کا لیکن نسود گناہ کے راسطے پر نہ چلا

اور شاہی محل کو چھوڑ کر ایک ویرانے میں جا بسا اللہ تعالیٰ نے اس ویرانے میں بھی اس نسود کی مدد کی اور ایک بھینس عطا کی جس کا دودھ بیچ کر شہر کے امیر ترین لوگوں میں ہونے لگا ہم میں سے بہت سے لوگ توبہ پر قائم نہیں رہ پاتے کیونکہ گناہوں سے ملنے والی لذت اور دولت کا کوئی بھی متبادل ان کے پاس موجود نہیں ہوتا وہ سوچتے کہ اگر گناہ چھوڑ دیا تو اپنی پرآسائش زندگی کس طرح قائم رکھ سکیں گے ان لوگوں کیلئے یہ واقعہ بہت روشن بھری دلیل ہے کہ اگر گناہوں بھری زندگی ترک کرکے اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑا جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف لوٹنے والوں کو کبھی بے یارومددگار نہیں چھوڑتا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں