یہ سننے کے بعد آپ نماز نہیں چھوڑیں گے۔

امام  ابن حجر نے لکھا ہے کہ جو شخص نما ز ترک کرتا ہے اس کو بہت ساری رسوائیاں ہیں  پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کی عمر میں برکت اٹھا لی جانی ہے اس کے چہرے سے صالحین کا نور اتار دیاجاتا ہے وہ کوئی بھی عمل کرے اس کا ثواب نہیں ملتا چوتھی سزا یہ ہے کہ اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتی اور پانچویں سزا اس کے لئے یہ ہے کہ اس کے لئے جو نیک لوگ دعاکرتے ہیں اس  دعاؤں کا حصہ  اسے  نہیں ملتا ۔مومن نیک سحری کے وقت دعامانگتے ہیں اے اللہ پوری امت پر کرم  کر تو یہ بھی امت میں شامل ہے  دعا اللہ والوں کی تو قبول ہوئی  لیکن اس کا حصہ نکال لیاگیا اور جب وہ مرنے لگتا ہے نزع کے وقت تین سزائیں ملتی ہیں۔

ایک تو بھوکامرتا ہے پیاسامرتا ہے تیسرا ذلیل ہوکر مرتا ہے اور قبر کے اندر اس کو تین سزائیں ہیں ایک تو اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے حتی کہ اس   والی پسلیاں ادھر اور ادھر والی پسلیاں ادھر ۔دوسرا اس کی قبر میں آگ ڈالی جائے گی  جو اللہ کے حضور نہیں جھکتا اس کی قبر  اس لائق ہے کہ اس میں آگ ڈالی جائے اور تیسری اس پر ایک اژدہا مسلط کردیاجائے گاجس کانام ہے شجاع الاخر اور جب وہ ڈنگ مارے گا تو ستر ستر   گز تک  وہ شخص زمین میں  دھنس جائے گا اور وہ مسلسل یہ  ڈنگ مارتا رہے گا اور فرمایا کہ تین سزائیں  حشر میں  پہنچیں گی ایک تو اس کا حساب سختی سے لیاجائے گا دوسرا اللہ  جل شانہ اپنے  قہروغضب کا اس پر اظہار فرمائیں گے۔

اور تیسری سزا اسکو یہ  دی جائے گی کہ اس کو جہنم میں ڈال دیا  جائے گا۔ہم یہ پختہ عزم کرنا ہے کہ  ہم خود بھی  اور اپنی اولاد کو بھی اپنے دوستوں کو بھی  نماز کی تلقین کریں  گے اور خود  بھی نماز کی پابندی کریں گے ۔دوستوں کی دوستی کاحق نبھائیے ۔ کوشش کیجئے کہ میرا دوست ہو اور جہنم میں جائے یہ نہ ہونے پائے۔والدین  بچوں کے مستقبل کے لئے کتنی بھاری فیسیں   بھرتے ہیں   مائیں اپنا زیور بیچ رہی ہیں   باپ کمر ٹیڑھی کر لیتا ہے بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لئے   حالانکہ جو اصل مستقبل ہے اس کی فکر ہی نہیں کسی کا انٹر ویو ہوتا ہے  لوگ  کہتے ہیں کہ جناب دعاکرو کہ اس انٹرویو سے وہ کامیابی سے گزر جائے ۔ہمیں فرائض کی پابندی کرنی چاہئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں